حدیث میں ہے"من ادعی الیٰ غیر ابیہ فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین لایقبل اللہ منہ صرفاً ولاعدلاً " جو شخص اپنا باپ چھوڑ کر دوسرے کو باپ بنائے،اس پر اللہ اور تمام فرشتوں اور تمام آدمیوں کی لعنت،اللہ نہ اس کا فرض قبول کرے گا،نہ نفل، دوسری حدیث فالجنۃ علیہ حرام، تیسری حدیث: فعلیہ لعنۃ اللہ متتابعۃ الیٰ یوم القیامۃ،اس پر اللہ کی پہ درپہ قیامت تک لعنت ہے۔
مفتی صاحب کیا وہ لوگ جو چھوٹے سید ،صدیقی وغیرہ بن جاتے ہیں، یہ تینوں حدیثیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں، دوسری حدیث کے معنیٰ بھی بتادیں، اس پر روشنی ڈال کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
اگر کوئی شخص واقعۃً سید، ہاشمی اور صدیقی وغیرہ خاندان سے نہ ہو اور محض لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے اپنے کو کسی بھی دوسرے خاندان کی طرف منسوب کرے اور اس نسبت کو وہ جائز اور حلال بھی سمجھے تو ایسے شخص کے بارے میں بڑی سخت وعیدیں بیان ہوئی ہیں، جن میں سے بعض سوال میں بھی مندرج ہیں، اسلئے اپنی خاندانی نسبت کو چھپا کر اپنے آپ کو کسی دوسرے خاندان کی طرف منسوب کرنے سے احتراز لازم ہے۔
کما فی مرقاة المفاتیح: وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَأَبِي بَكْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حرَام» اھ(5/2170)۔