گناہ و ناجائز

این ایف ٹی پر کام کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
79836
| تاریخ :
2024-12-08
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

این ایف ٹی پر کام کرنے کا حکم

NFT پر کام کرنا کیسا ہے؟ اس میں ہم کوئی ایسی پینٹنگ یا تصویر بیچتے ہیں جس کا حقیقت میں کو ئی وجود نہیں ہوتا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ ٹریژر این ایف ٹی جیسی ایپس میں پیسے انویسٹ کرکےکاروبارکرنا شرعاً ناجائز ہے، کیونکہ اس میں کئی شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں، سب سے پہلے، یہاں ایسی چیزوں کی خرید و فروخت کی جاتی ہے جو شرعاً مالِ متقوم نہیں، اور اس کے علاوہ سرمایہ پر فکس نفع دینا ،جوکہ ناجائز ہے۔ مزید یہ کہ کمیشن سسٹم ملٹی لیول مارکیٹنگ (MLM) اور پونزی اسکیم کی طرز پر کام کرتا ہے، جو دھوکہ اور غرر پر مبنی ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس کمپنی کی قانونی حیثیت بھی موجود نہیں، جو اس کاروبار کے خطرات اور ناجائز ہونے کو مزید بڑھا دیتی ہے، لہٰذا یہ کاروبار شرعاً ناجائز ہے اور اس سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في بدائع الصنائع: ومنها: وهو شرطُ انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكًا للبائع عند البيع، فإن لم يكن لا ينعقد... وهذا بيع ما ليس عنده، ونهى رسول الله ﷺ عن بيع ما ليس عند الإنسان... (ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول، فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي ﷺ «نهى عن بيع ما لم يُقبض» الخ( کتاب البیوع، فصل فی الشرط الذی یرجع الی المعقود علیہ،ج5،ص146،ط:ایچ ایم سعید)۔
وفي الدر المختار: وشرعا: (مبادلة شيء مرغوب فيه بمثله) خرج غير المرغوب كتراب وميتة ودم على وجه) مفيد. (مخصوص) أي بإيجاب أو تعاط، فخرج التبرع من الجانبين والهبة بشرط العوض، وخرج بمفيد ما لا يفيد الخ( کتاب البیوع،ج4،ص 502،ط:ایچ ایم سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعید اللہ لطیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 79836کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات