گناہ و ناجائز

لائسنس کرائے پر دینے کا حکم

فتوی نمبر :
79790
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

لائسنس کرائے پر دینے کا حکم

میں ایک سول انجینئر ہوں،آج کل ایک یونیورسٹی میں جاب کر رہا ہوں، میرے ایک سینئر مجھے کہہ رہے ہیں کہ ان کے جاننے والے نے کمپنی کھولنی ہے،آپ اپنے pec ) Pakistan Engineering Council) کا کارڈ چھ ماہ کے لئے ہمیں دو ،آپ کو کچھ پیسے دے دیں گے، اس طرح آپ کا کارڈ فری پڑا ہے،اس سے آپ کو بھی فائدہ ہوگا، اور ہمیں بھی، کیا pec کارڈ انکو دینا ،جس میں وہ مجھے اپنا انجینئر شو کریں گےڈاکو مینٹس میں ،جائز ہے؟ جب کہ میں آج کل پشاور میں نوکری کر رہا ہوں، کیونکہ بہت سے لوگ ویسے ہی دے دیتے ہیں ، اگر یہ جائز ہے،تو ٹھیک ،یا کیا اس نیت سے دینا کہ کوئی اور تو ویسے بھی دے دے گا،میں ان کو دے دیتا ہوں ، پیسے سارے کسی غریب کو دے دوں گا،جس میں اس کی مدد بھی ہو جائے گی،اور ان کو فائدہ بھی، پلیز رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ڈگری اور لائسنس کوئی مال نہیں، بلکہ ایک تصدیق اور اجازت نامہ ہے ،جو حکومت کی طرف سے متعلقہ شخص کو مطلوبہ تعلیم پر مشتمل کورس کی تکمیل اور مہارت کے حصول کے بعد دیا جاتا ہے ، اور اس کا استعمال قانوناً بھی اس کی ذات تک محدود ہوتا ہے، لہٰذا سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق سائل کا اپنا PEC کارڈ چھ ماہ کے لئے اپنے سینئر کو دینا ، اور اس پر معاوضہ لینا ، یا اس کے پیسے لے کر کسی غریب کو دے دینا شرعاً ناجائز اور دھوکہ دہی پر مبنی عمل ہے،اور اس طرح اپنا کارڈ کسی دوسرے کو دینے میں قانونی طور پر بھی اجازت نہیں ہوتی، لہٰذا مذکور طریقے سے سائل کا اپنا PECکارڈ غیر قانونی طور پر اپنے سینئر کو دینا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح مسلم: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني» (99/1)۔
و في بحوث فى قضايا فقهیۃ معاصرة: هل يجوز لحامل رخصة الإيراد او الإصدار أن يبيع هذه الرخصة إلى تاجر آخر؟ (الى قوله) ولكن كل ذلك انما ياتي اذا كان في الحكومة قانون يسمح بنقل هذه الرخصة الى رجل آخر اما اذا كانت الرخصة باسم رجل مخصوص أو شركة مخصوصة ولا يسمح القانون بنقلها الى رجل آخر أو شركة أخرى فلا شبهة فى عدم جواز بيعها لأن بيعها يؤدي حينئذ إلى الكذب والخديعة فان مشترى الرخصة يستعملها باسم البائع لا باسم نفسه فلا يحل ذلك الا بأن يوكل حامل الرخصة بالبيع والشراء اھ(115/1) ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 79790کی تصدیق کریں
0     452
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات