السلام علیکم !
حضرت ایک شخص ہےجو خاندان اور معاشرے میں بہت اچھا سمجھا جاتا ہے اور وہ ہے بھی ایک اچھے اخلاق والا انسان لیکن اپنی سگی بیٹی کیلئے بلکل اچھا نہیں ہے۔اس نے اپنی بیٹی کے ساتھ متعدد بار بدکار ی کی ہے، وہ روز اپنی بیٹی کے کمرے میں آکر اسکے ساتھ بدفعلی کرتاہے۔ جب اس کی بیٹی نے یہ بات اپنی ماں کو بتائی تو اس شخص نے اپنی بیوی کے سامنے قرآن کی قسم کھا کر کہا کی اس نے ایسا نہیں کیا لیکن وہ پھر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا اور اب وہ لڑکی کیا کرے ؟وہ اپنے باپ سے بہت بار کہ چکی ہے کہ یہ غلط ہے لیکن اس کا باپ ابھی بھی اپنی بیوی کے ساتھ رہتا اور اس شخص کی بیوی ایک نہایت متقی اور پرہیزگار خاتون ہے ۔تو کیا اگر وہ شخص اس لڑکی کی ماں کو طلاق نہ دے تو کیا اس لڑکی کی ماں کو بھی اسکا گناہ ہوگا؟
جبکہ اس شخص نے اپنی بیوی کے سامنے بہت دلیری سے قرآن کی قسم کھا کر یقین دلایا ہو کہ اسنے ایسا نہیں کیا ۔وہ لڑکی اب کیا کرے ۔ او ر وہ لڑکی اب کسی عالم دین سے شادی کرنا چاہتی ہے لیکن اسکا باپ اسکی شادی کسی دنیا دار سے کرانا چاہتے ہے لیکن اسے اپنے باپ کو دیکھ کر دنیا دار انسان سے خوف آتا ہے اور وہ بالغ ہے تو کیا وہ اپنی مرضی سے شادی کرسکتی؟ اسے اسکے ساتھ جو ہوا تو کیا اسے جس سے اسکا نکاح ہو اسے بتانا چاہیے یا نہیں ۔اور لڑکی پاکدامن کہلاےگی یا زانیہ اگر زانیہ تو کیا اس کا کسی اچھے عالم دین سے نکاح کرنا صحیح ہوگا یا نہیں ؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اوراس میں کسی قسم کی دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، تو مذکور شخص کااپنی بیٹی کے ساتھ زنا کرنا نا جائز و حرام اور گناہ کبیرہ ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوا ہے ، اور اس کے اس عمل شنیع کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان حرمت مصاہرۃ ثابت ہوکر اس کی بیوی اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو چکی ہے ، لہذا ان دونوں پر لازم ہے کہ فی الفور ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرکےشوہر بیوی کوالفاظ متارکت جیسے تجھے چھوڑدیاکہہ کر اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کردے،اور بیٹی کو بھی چاہیئے کہ خاندان میں دیگر افراد کا سہارا لیکر اپنے والد کو اس حرام کاری سے روکنے میں کردار ادا کرے ۔
جبکہ والد اپنے اس قبیح فعل کی وجہ سے اگر بیٹی کا رشتہ نہیں کرانا چاہتا ہوتو اس کی وجہ سے بیٹی اس کی اجازت و مرضی کے مطابق رشتہ کرنے کے پابند نہ ہوگی، بلکہ عاقلہ بالغہ ہونے کی صورت میں اپنی مرضی سے مناسب رشتہ ملنے پر اپنا نکاح کرسکتی ہے۔
کما فی البحر: (قوله والزنا واللمس والنظر بشهوة يوجب حرمة المصاهرة) وقال الشافعي الزنا لا يوجب حرمة المصاهرة؛ لأنها نعمة فلا تنال بالمحظور، ولنا: أن الوطء سبب الجزئية بواسطة الولد حتى يضاف إلى كل واحد منهما كملا فيصير أصولها وفروعها كأصوله وفروعه، وكذلك على العكس والاستمتاع بالجزء حرام إلا في موضع الضرورة وهي الموطوءة والوطء محرم من حيث إنه سبب الولد لا من حيث إنه زنا واللمس والنظر سبب داع إلى الوطء فيقام مقامه في موضع الاحتياط كذا في الهداية، الخ۔ (فصل في المحرمات، ج: 3، ص: 105، ط: ماجدیہ)۔
وفی الدر: وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة الخ۔
وفی الشامیۃ تحت: (قوله: إلا بعد المتاركة) أي، وإن مضى عليها سنون كما في البزازية، وعبارة الحاوي إلا بعد تفريق القاضي أو بعد المتاركة. وقد علمت أن النكاح لا يرتفع بل يفسد وقد صرحوا في النكاح الفاسد بأن المتاركة لا تتحقق إلا بالقول، إن كانت مدخولا بها كتركتك أو خليت سبيلك، الخ۔ (فصل فی المحرمات، کتاب النکاح، ج: 3، ص: 37، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: نفذ نكاح حرة مكلفة بلا ولي عند أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى - في ظاهر الرواية، كذا في التبيين. سئل شيخ الإسلام عطاء بن حمزة عن امرأة شافعية بكر بالغة زوجت نفسها من حنفي بغير إذن أبيها والأب لا يرضى ورده هل يصح هذا النكاح؟ . قال: نعم، وكذلك لو زوجت نفسها من شافعي، كذا في الظهيرية لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج الخ (الباب الرابع في الأولياء في النكاح، ج: 1، ص: 287، ط: ماجدیۃ)۔