گناہ و ناجائز

علم الاعداد کے ذریعے زائچہ نکالنا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
79490
| تاریخ :
2024-11-23
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

علم الاعداد کے ذریعے زائچہ نکالنا جائز ہے ؟

السلام علیکم !محترم !میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اسلام میں علم الاعداد کے ذریعے زائچہ نکالنا جائز ہے؟ قرآن اور حدیث اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

علم الاعداد یا زائچہ کے ذریعے قسمت یا مستقبل کا حال معلوم کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے، کیونکہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے کہانت اور جادو کی قسم قرار دیا ہے، لہٰذا اس طرح کی چیزوں سے اجتناب کرنا اور ان پر اعتماد نہ کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في رد المحتار على الدر المختار: مطلب في التنجيم والرمل(قوله: والتنجيم) هو علم يعرف به الاستدلال بالتشكلات الفلكية على الحوادث السفلية. اهـ. ح. وفي مختارات النوازل لصاحب الهداية أن علم النجوم في نفسه حسن غير مذموم، إذ هو قسمان: حسابي وإنه حق، وقد نطق به الكتاب. قال الله تعالى – {الشمس والقمر بحسبان} [الرحمن: 5]- أي سيرهما بحساب. واستدلالي بسير النجوم وحركة الأفلاك على الحوادث بقضاء الله تعالى وقدره، وهو جائز كاستدلال الطبيب بالنبض من الصحة والمرض ولو لم يعتقد بقضاء الله تعالى أو ادعى الغيب بنفسه يكفر، ثم تعلم مقدار ما يعرف به مواقيت الصلاة والقبلة لا بأس به. اهـ. وأفاد أن تعلم الزائد على هذا المقدار فيه بأس بل صرح في الفصول بحرمته وهو ما مشى عليه الشارح اھ(1/ 43)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 79490کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات