اسلام علیکم
میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں ،میرا کہنایہ ہے کہ اگر میری کمپنی مجھے کہے کہ آپ کو انہیں اپنی دستاویزات دینا ہوں گی تاکہ میری کمپنی میرے نام پر بینک سے گاڑی لیز (قسطوں ) پر لے سکے اور اگر وہ میرے کاغذات استعمال کر کے بینک سے گاڑی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے ، تو میری کمپنی مجھے ہر مہینے 20,000 روپے Incentive کے طور پر دیا کرے گی۔
نوٹ:
بینک ہماری کمپنی کو گاڑی قسطوں پر، گاڑی کی اصل قیمت سے ٩ فیصد سود پر دے گا. اس میں میری طرف سے بینک یا کمپنی کو میں کوئی رقم نہ لے رہاہوں اور نہ ہی کوئی رقم دے رہا ہوں. تمام قسطیں کمپنی خود ادا کرے گی اور 4 سال کے بعد میں نے اس گاڑی کو کمپنی کے نام پر منتقل کرنا ہوگا ۔
ہر مہینہ 20000روپے جو رقم کمپنی مجھے 4 سال تک دے گی وہ میرے لیے حلال ہوگی یا نہیں؟
مہربانی کر کے رہنمائی فرماۓ .
واضح ہوکہ جس طرح سودی معاملہ کرناناجائزاورحرام ہے اسی طرح کسی بھی سودی معاملہ میں معاونت فراہم کرکے اس پرکسی بھی قسم کے فوائدحاصل کرنابھی شرعاناجائزہے،لہذاصورت مسئولہ میں سائل کے لیےکمپنی کو ایک سودی معاملہ میں مددفراہم کرتے ہوئے اپنے نام سے گاڑی نکلوانااوراس میں بطوررہن (مورگیج )اپنی دستاویزات جمع کرکے کمپنی سے ہرماہ اس پرایک مخصوص رقم نفع کے نام پرحاصل کرنایہ تمام امورشرعاناجائزاورحرام ہیں، جس سے بہرصورت اجتناب لازم ہے ۔
"کماقال اللہ تعالی فی التنزیل : وَتَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقابِ."(المائدة:2)
وفی فقہ البیوع : السابع اں يواجر المرء نفسه للبنك باں يقبل فيه وظيفةفقبول هذه الوظيفة حرام، ذلك مثل التعاقد بالربوا اخذا و اعطاء او خصم الكمبيلات، او كتابة هذه العقود او التوقيع عليها اوتقاضي الفوائد الربويه او دفعها او قيدها في الحساب بقصد المحافظة عليها او ادارة البنك او ادارة فرع من فروعه فان الادارة مسئولة عن جميع نشاطات البنك التي غالبها حرام۔ (2/1064)