گناہ و ناجائز

ایک شریک کا دوسرے شریک کی مرضی کے بٖغیر کرکے اسے اس پر مجبور کرنا

فتوی نمبر :
78820
| تاریخ :
2024-10-21
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ایک شریک کا دوسرے شریک کی مرضی کے بٖغیر کرکے اسے اس پر مجبور کرنا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب! میں آپ سے ایک شرعی مسئلے میں رہنمائی چاہتا ہوں کہ پندرہ بیس سال پہلے میرے بڑے بہنوئی نے ہماری والدہ کی رضا مندی سے ہمارا آبائی گھر (جو غیر A/N علاقے میں واقع تھا) فروخت کیا۔ اس کی رقم میں اپنی طرف سے زیادہ پیسے شامل کرکے انہوں نے ایک اچھے رہائشی علاقے (A/N) میں اپنے نام سے گھر خریدا، اور یہ کہا کہ اگرچہ میری طرف سے زیادہ پیسے لگائے گئے ہیں، مگر اس گھر میں ہمارا حصہ آدھا آدھا ہوگا۔ اس وقت سے لے کر اب تک وہ یہی بات کرتے آئے ہیں اور اس پر گواہ بھی موجود ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے ہماری اجازت کے بغیر وہ گھر فروخت کر دیا ہے اور ہمارا آدھا حق جو کہ ہمارا حصہ ہے، اس کی رقم دینے کے بجائے کہہ رہے ہیں کہ وہ رقم نہیں دیں گے، بلکہ ایک اور زمین جو ایک دوسرے کم رہائشی علاقے(غیر(A/N ) میں ہے، اس کا آدھا حصہ دیں گے۔ وہ اس پر زور دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میں نے آدھی زمین دینے کا وعدہ کیا تھا، تو آدھی زمین ہی دے رہا ہوں، رقم نہیں دوں گا۔ ہماری درخواست یہ ہے کہ ہمیں ہمارے حصے کی رقم دی جائے، لیکن وہ ماننے کے لیے تیار نہیں۔ اس صورت حال میں شرعی طور پر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ براہِ کرم اس معاملے میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا۔ والسلام

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بر تقدیرِ صحتِ سوال اگر سائل کے بہنوئی نے ان کا آبائی گھر بیچ کر اپنی طرف سے زیادہ پیسے شامل کرکے ایک نیا گھر خرید کر اسے اس میں آدھے حصے کے بقدر شریک کرلیا تھاتو مذکور گھر دونوں کی مشترکہ ملکیت بن چکا تھا، اس لئے سائل کے بہنوئی کا مذکور گھر دیگر شرکاء کی اجازت کے بغیر بیچ دینا شرعاً جائز نہ تھا۔ تاہم اگر اب دیگر شرکاء اس بیع پر راضی ہوجائیں تو مذکور گھر کی رقم دونوں شریکوں کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کرنا لازم ہے۔ سائل کے بہنوئی کا اس رقم کے بجائے کسی دوسرے پلاٹ میں حصہ داری دینے کا ایسا وعدہ کرنا جس پر سائل و دیگر شرکاء راضی نہ ہوں، درست نہیں ، لہٰذا سائل شرعاً و قانوناً اسی مکان کی قیمت میں سے اپنا حق وصول کرنے کا اختیار رکھتا ہے، جس کے حصول کےلئے وہ قانونی چارہ جوئی بھی کرسکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھدایۃ: و من باع ملک غیرہ بغیر أمرہ فالمالک بالخیار إن شاء أجاز البیع و إن شاء فسخ إلخ۔ (کتاب البیوع، فصل في بیع الفضولي: ج 3، ص 90، ط:امیر حمزہ کتب خانہ)۔
و فی فقہ البیوع: و إن لم یجز من لہ الإجازۃ البیع، فالبیع باطل إلخ۔(الباب الثامن تقسیم البیع، المبحث الخامس: في البیع الموقوف ، ج 2، ص 945، ط:معارف القرآن)۔
و فی الدر المختار: و لو كانت الدار مشتركة بينھما، باع أحدهما بيتا معينا أو نصيبه من بيت معين، فللآخر أن يبطل البيع إلخ۔ (کتاب الشرکۃ، ج 4، ص 302، ط: سعید)۔
و فی بدائع الصنائع:فأما شركة الأملاك، فحكمھا في النوعين جميعا واحد، و هو أن كل واحد من الشريكين كأنه أجنبی فی نصيب صاحبه،لا يجوز له التصرف فيه بغير إذنه؛ لأن المطلق للتصرف الملك أو الولاية، و لا لكل واحد منھما فی نصيب صاحبه ولاية بالوكالة أو القرابة؛ و لم يوجد شیئ من ذلك، و سواء كانت الشركة فی العين أو الدين لما قلنا إلخ۔ (کتاب الشرکۃ،ج 6، ص 65، ط:سعید)۔
و فی درر الأحکام شرح مجلۃ الأحکام: لو باع أحد صاحبی الدار المشترکۃ حصتہ و حصۃ شریکہ بدون إذنہ لآخر فیکون البیع المذکور فضولا فی حصۃ الشریک(البھجۃ) و للشریک المذکور إن شاء فسخ البیع فی حصتہ و إن شاء أجاز البیع إذا وجدت شرائط الإجازۃ إلخ۔ (الفصل فی کیفیۃ التصرف فی الأعیان المشترکۃ، ج 3، ص 29، ط: دار الجیل)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 78820کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات