پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں کام کرنا مثلاً ادکاری کرنا، ڈرامہ لکھنا، ہدایت کاری کرنا حلال ہے یا حرام نیز اس کام سے جو آمدنی ہوگی وہ جائز ہوگی یا ناجائز؟
واضح ہو کہ ڈرامہ انڈسٹری میں ادا کاری کرتے وقت غیر شرعی امور مثلاً میوزک، من گھڑت جھوٹے واقعات بیان کرنے ، نا محرم مرد و عورتوں کا باہم اختلاط اور غیر شرعی میل جول رکھنے کا ارتکاب یقینی ہوتا ہے، اسی طرح ڈرامہ سیریل لکھتے وقت یا اس کی ہدایت کاری کرتے وقت ان غیر شرعی امور کی نشر و اشاعت اور اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو شرعاً نا جائز اور حرام ہونے کے علاوہ معاشرے پر ایک منفی اثر ڈالنے کے ساتھ ساتھ نو جوان نسل کو اسلامی تہذیب و اقدار سے دور کرنے کا ذریعہ بھی بن رہی ہے، لہذا ڈرامہ انڈسٹری میں اسی نوعیت کا کسی بھی طرح کام کرنا شرعاً گناہ کے ارتکاب اور اس گناہ پر معاونت کی وجہ سے نا جائز اور حرام ہے، اور اس نا جائز عمل سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شرعاً جائز نہیں ہے اس لئے مذکور انڈسٹری سے وابستہ ہونے کے بجائے کوئی جائز اور حلال ذریعہ معاش تلاش کرنے کا اہتمام ضروری ہے۔
کما قال اللہ تعالی: و تعاونوا علی البر و التقوی و لا تعاونوا علی الاثم و العدوان (سورۃ المائدۃ: 2)۔
و فی الموسوعۃ الفقھیۃ: و لا یجوز استئجار کاتب لیکتب لہ غناء و نوحاً؛ لأنہ انتفاع بمحرم الخ (الاجارۃ علی المعاصی و الطاعات، ج: 1، ص: 290، ط: وزارۃ الاوقاف و الشؤون الاسلامیۃ)۔
و فی الدر المختار: وفي السراج ودلت المسألة أن الملاهي كلها حرام ويدخل عليهم بلا إذنهم لإنكار المنكر قال ابن مسعود صوت اللهو والغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: وفي البزازية استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله عليه الصلاة والسلام «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع لما روي «أنه عليه الصلاة والسلام أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه»الخ ( کتاب الحظر و الاباحۃ، ج: 6، ص: 348-349، ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ: و لا تجوز الاجارۃ علی شیئ من الغناء و النوح و المزامیر و الطبل و شیئ من اللھو و علی ھذا کلہ و قرائۃالشعر و غیرہ و لا أجر فی ذلک و ھذا کلہ قول ابی حنیفۃ و ابی یوسف و محمد رحمھم اللہ تعالی کذا فی غایۃ البیان الخ (باب مسائل الشیوع فی الاجارۃ و الاستئجار، ج: 4، ص: 508، ط: قدیمی)۔