کیا قبرستان کی لکڑی کاٹ کر پٹاؤ بنانا جائز ہے؟
وقف قبرستان کی گھاس اور اس کے درختوں کی تروتازہ شاخیں جو کہ مقبرہ کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچا رہی ہوں تو بلا ضرورت کاٹنا مکروہ ہے، البتہ جو درخت وغیرہ سوکھ جائیں ان کو کاٹنے کی گنجائش ہے، تاہم ان سے حاصل شدہ آمدنی کو قبرستان کی ضروریات میں خرچ کردینا چاہئے،ذاتی استعمال میں لانا شرعاً درست نہیں، لہذا سائل کا موقوفہ قبرستان کی لکڑیوں سے اپنے لئے پٹاؤ بنانا شرعاً درست نہیں، جس سے اجتناب چاہیئے، البتہ اگر وہ زمین کسی کی مملوکہ ہو تو اس کے درخت (خواہ لگائے گئے ہوں یا خود اگے ہوں) زمین کے ملکیت ہوں گے، وہ اس کو کاٹ کر کسی بھی مصرف میں خرچ کرسکتا ہے، کسی دوسرے شخص کے لئے یہ درخت کاٹ کر بیچنا یا اس سے اپنی ضرورت پوری کرنا جائز نہیں۔
کما فی الہندیۃ: ویکرہ قطع الحطب والحشیش من المقبرۃ فإن کان یابسا لا بأس بہ کذا فی فتاوٰی قاضی خان۔ اھـ(ج۱، ص۱۶۷)-
وفیھا ایضاً: مقبرة عليها أشجار عظيمة فهذا على وجهين: إما إن كانت الأشجار نابتة قبل اتخاذ الأرض أو نبتت بعد اتخاذ الأرض مقبرة. ففي الوجه الأول المسألة على قسمين: إما إن كانت الأرض مملوكة لها مالك، أو كانت مواتا لا مالك لها واتخذها أهل القرية مقبرة، ففي القسم الأول الأشجار بأصلها على ملك رب الأرض يصنع بالأشجار وأصلها ما شاء، وفي القسم الثاني الأشجار بأصلها على حالها القديم. وفي الوجه الثاني المسألة على قسمين: إما إن علم لها غارس أو لم يعلم، ففي القسم الأول كانت للغارس، وفي القسم الثاني الحكم في ذلك إلى القاضي إن رأى بيعها وصرف ثمنها إلى عمارة المقبرة فله ذلك، كذا في الواقعات الحسامية الخ (ج2 صـ474 الباب الثاني عشر في الرباطات والمقابر والخانات والحياض ط: دار الفکر)۔
وفی رد المحتار: [تتمة قطع النبات الرطب والحشيش من المقبرة دون اليابس] مطلب في وضع الجريد ونحو الآس على القبور[تتمة] يكره أيضا قطع النبات الرطب والحشيش من المقبرة دون اليابس كما في البحر والدرر وشرح المنية وعلله في الإمداد بأنه ما دام رطبا يسبح الله - تعالى - فيؤنس الميت وتنزل بذكره الرحمة اهـ ونحوه في الخانية الخ (ج2 صـ245 ط: دار الفکر)۔