گناہ و ناجائز

جانور کا دودھ بڑھانے کیلئے انجیکشن لگوانا

فتوی نمبر :
77505
| تاریخ :
2024-08-19
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

جانور کا دودھ بڑھانے کیلئے انجیکشن لگوانا

السلام علیکم! جناب میں ایک ڈیری فارمر ہوں اور میں جاننا چاہتا ہوں کہ مہنگائی اور( کوسٹ آف پراڈکشن) بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے ہر فارمر دودھ بڑھانے کا انجیکشن لگاتا ہے ، جس پر پاکستان میں پابندی ہے اور غیر قانونی پاکستان میں آتا ہے، جبکہ وہ اور ملکوں میں جائز ہے، فارمر کی مجبوری ہے اس انجیکشن کو لگانا، ورنہ یہ کاروبار ممکن نہیں، میں دو باتیں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا وہ انجیکشن حالت مجبوری میں لگا سکتے ہیں؟ کچھ ریسرچ کہتی ہے کہ وہ جانور کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے، دوسری بات کہ میں وہ انجیکشن ایک دوسرے بندے سے لیتا ہوں اور آگے دوسرے فارمر کو پچاس سو روپے رکھ کر آگے دیتا ہوں، کیا وہ منافع جائز ہے اور اس کو کاروبار میں لگایا جا سکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور انجیکشن اگر جانوروں کے لئے تکلیف دہ یا انسانی صحت کے لئے نقصان کا باعث بنتا ہو اور اس کے مضرِ صحت ہونے کے پیشِ نظر ہی اس پر قانوناً پابندی عائد کی گئی ہو تو ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جانوروں کو انجیکشن لگانا یا اس کا کاروبار کرنا درست نہیں، البتہ سائل نے لاعلمی میں اب تک جو کام کر کے نفع حاصل کیا ہے، اسے کسی دوسرے جائز کاروبار میں انویسٹ کر کے نفع حاصل کرنے کی اجازت ہے، تاہم آئندہ اسے اس طرح کے غیر شرعی اور غیر قانونی کاروبار کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی احکام القرآن للجصاص: قال الله تعالى يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم ( الی قولہ ) ومن الناس من يقول إن الأظهر من أولى الأمر هاهنا أنهم الأمراء لأنه قدم ذكر الأمر بالعدل وهذا خطاب لمن يملك تنفيذ الأحكام وهم الأمراء والقضاة ثم عطف عليه الأمر بطاعة أولي الأمر وهم ولاة الأمر الذين يحكمون عليهم ماداموا عدولا مرضيين وليس يمتنع أن يكون ذلك أمرا بطاعة الفريقين من أولي الأمر وهم أمراء السرايا والعلماء إذ ليس في تقدم الأمر بالحكم بالعدل ما يوجب الاقتصار بالأمر بطاعة أولي الأمر على الأمراء دون غيرهم الخ ( باب فی طاعۃ اولی الامر ج 2 ص 210 ط: سہیل اکیڈمی )۔
وفی بدائع الصنائع: وإذا أمر عليهم يكلفهم طاعة الأمير فيما يأمرهم به، وينهاهم عنه؛ لقول الله - تبارك وتعالى - {يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم} [النساء: 59] وقال - عليه الصلاة والسلام -: «اسمعوا وأطيعوا، ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع ما حكم فيكم بكتاب الله - تعالى» ولأنه نائب الإمام، وطاعة الإمام لازمة كذا طاعته؛ لأنها طاعة الإمام، إلا أن يأمرهم ولو أمرهم بشيء لا يدرون أينتفعون به أم لا، فينبغي لهم أن يطيعوه فيه إذا لم يعلموا كونه معصية؛ لأن اتباع الإمام في محل الاجتهاد واجب، كاتباع القضاة في مواضع الاجتهاد والله تعالى - عز شأنه - أعلم. الخ ( ج 7 ص 99/100 ط: سعید)۔
وفی رد المحتار تحت: مطلب في وجوب طاعة الإمام (قوله: افترض عليه إجابته) والأصل فيه قوله تعالى {وأولي الأمر منكم} [النساء: 59] وقال - صلى الله عليه وسلم - «اسمعوا وأطيعوا ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع» وروي «مجدع» وعن ابن عمر أنه - عليه الصلاة والسلام - قال «عليكم بالسمع والطاعة لكل من يؤمر عليكم ما لم يأمركم بمنكر» ففي المنكر لا سمع ولا طاعة ثم إذا أمر العسكر بأمر فهو على أوجه: إن علموا أنه نفع بيقين أطاعوه وإن علموا خلافه كأن كان لهم قوة وللعدو مدد يلحقهم لا يطيعونه، وإن شكوا لزمهم إطاعته، وتمامه في الذخيرة الخ ( ج 4 ص 264 ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77505کی تصدیق کریں
0     880
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات