گناہ و ناجائز

کسینوں کی ویب سائٹ کی ایس ای او کرنا

فتوی نمبر :
77504
| تاریخ :
2024-08-19
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کسینوں کی ویب سائٹ کی ایس ای او کرنا

سوال:میں SEO میں کام کرتا ہوں، جہاں میرا کام ویب سائٹس کو سرچ ریزلٹس میں اوپر لانا ہے تاکہ انہیں زیادہ وزیٹرز مل سکیں، ایک کلائنٹ کی کیسینو ویب سائٹ ہے، یعنی جوئے کے بارے میں ہے، میرے باس کا کہنا ہے کہ ہمارا کام حلال ہے کیونکہ ہم صرف SEO کر رہے ہیں، اور جو کلائنٹ کر رہا ہے، وہ اس کی ذمہ داری ہے، اور جوئے کا کام کلائنٹ کی ذمہ داری ہے، کیا میرے لیے ایک کیسینو ویب سائٹ کے لیے SEO کرنا حلال ہے یا حرام؟SEO کیا ہے؟SEO کا مطلب ہے سرچ انجن آپٹیمائزیشن، یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں ویب سائٹس کو گوگل اور دیگر سرچ انجنوں میں بہتر مقام دلانے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب لوگ کچھ تلاش کریں تو وہ ویب سائٹ سرچ ریزلٹس میں اوپر نظر آئے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اسے دیکھ سکیں اور وزٹ کریں کیسینو کیا ہے؟کیسینو ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگ جوا کھیلنے جاتے ہیں، جوئے میں لوگ پیسے یا دیگر چیزوں کو داؤ پر لگا کر کھیلتے ہیں، جیسے کہ کارڈ گیمز، رولیٹ، سلاٹس وغیرہ، جوئے کو اسلام میں حرام سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں پیسے کا ضیاع اور نقصان کا خدشہ ہوتا ہے، اور یہ غیر یقینی حالتوں پر منحصر ہوتا ہے، کیسینو کے لیے SEO کیسے کیا جاتا ہے؟اگر آپ کیسینو ویب سائٹ کے لیے SEO کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ اس ویب سائٹ کو گوگل اور دیگر سرچ انجنوں میں اوپر لانے کی کوشش کریں گے، اس کے لیے آپ مختلف تکنیکیں استعمال کریں گے جیسے کہ جوئے سے متعلقہ کی ورڈز کا استعمال، ویب سائٹ کے مواد کو آپٹیمائز کرنا، اور بیک لنکس بنانا تاکہ ویب سائٹ کی رینکنگ بہتر ہو،کلائنٹ کو کیا فائدہ ہوگا؟جب آپ کیسینو ویب سائٹ کے لیے SEO کریں گے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ویب سائٹ زیادہ لوگوں کے سامنے آئے گی، اور اس طرح زیادہ وزیٹرز ویب سائٹ پر آئیں گے، یہ کلائنٹ کے لیے فائدہ مند ہوگا کیونکہ زیادہ وزیٹرز کا مطلب ہے کہ زیادہ لوگ جوا کھیلنے آئیں گے، جس سے کلائنٹ کو مالی فائدہ ہوگا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے سوال میں جو تفصیل ذکر کی ہے، اس سے اگر چہ سائل براہ راست جوا کھیلنے کا مرتکب تو نہیں ہو رہا، تاہم ایک جوئے کی ویب سائٹ کو گوگل سرچ انجن میں اوپر لانے کے لئےSEO کرنا ایک ناجائز اور حرام کی تشہیر اور اس میں معاونت کے مترادف ہے، لہذا سائل کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ( سورۃ المائدۃ ایۃ2)۔
وقال اللہ تعالی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ(سورۃ المائدۃ ایۃ90)۔
وفی ردالمحتار:تحت (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص،الخ (ج4 ص403 کتاب الحظر والاباحۃ، ط ؛ سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 77504کی تصدیق کریں
0     1108
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات