کیا قرض کی ادائیگی کے لیے بنک سے سود پر رقم لے کر ادا کی جا سکتی ہے ؟ جبکہ ذاتی کوئی چیز نہیں جسے بیچا جا سکے،کوئی عزیز رشتے دار بھی مدد نہیں کر پا رہا سبھی مالی مشکل میں ہیں۔
سائل کے لئےسابقہ قرض کی ادائیگی کے لئے بینک سےسودی قرض لینا توشرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، جبکہ سودی قرضہ کے علاوہ کوئی اور جائز تدبیر(غیرسودی قرض حاصل کرکے یا اپنے اخراجات کو محدود کرکے) قرض کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیے،نیز ادائیگی قرض کے لئے فرض نمازوں اور نوافل کے بعد اور سونے سے پہلے درج ذیل قرآنی آیت"قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (26) تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (27)کا اہتمام کریں اور صبح وشام اس دعا"اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَضَلَعِ الدَّیْنِ وَغَلَبَۃِ الرِّجَال" کا اور مغرب کے بعد سورۃالواقعۃ کے پڑھنے کا اہتمام کریں،ان شاءاللہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ قرض سے نجات عطا فرمائیں گے۔(ماخوذ از اعمال قرآنی ص39/71 ط:دارالاشاعت)۔
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (سورۃ آل عمران،رقم الآیہ 130)۔
وفی الدر المختار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام الخ(مطلب كل قرض جر نفعا حرام،ج5،ص166،ط:سعید)۔