السلام علیکم حضرت ایک مسئلہ پوچھنا تھا ہم کچھ لڑکے کرکٹ کھیلتے ہیں، تو کبھی ہم 3 میچز کی سیریز رکھ لیتے ہیں اور کبھی پیسوں کی سیریز بھی رکھتے ہیں، جو ٹیم جیت جاتی ہے، یہ پیسے اس ٹیم کو دیئے جاتے ہیں، اب حضرت پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ پیسے استعمال میں لانا جائز ہیں۔
واضح ہو کہ کرکٹ یا کوئی بھی کھیل اس طور پر کھیلنا کہ جو ٹیم جیتے گی اس کو ہاری ہوئی ٹیم کی طرف سے پیسے دیے جائیں گے شرعاً جوئے اور قمار پر مبنی ہونے کی وجہ سے ازروئےقرآن و حدیث ناجائز و حرام ہے، لہذا صورت مسؤلہ میں اگر ہاری ہوئی ٹیم سے پیسے جمع کر کے جیتی ہوئی ٹیم کو دیے جاتے ہوں تو ایسا کرنا شرعا ناجائز اور حرام ہے اس سے اجتناب لازم ہے، البتہ اگر یہ رقم کسی تیسرے فریق کی طرف سے جیتی ہوئی ٹیم کو حسن کارگردگی میں ملی ہو، تو ایسا کرنا شرعا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
کما فی الدرالمختار: (إن شرط المال) في المسابقة(من جانب واحد وحرم لو شرط) فيها (من الجانبين) لأنه يصير قمارا الخ(ج6،ص403،ط:سعید)۔
وفی ردالمحتارتحت: (قوله من الجانبين) بأن يقول إن سبق فرسك فلك علي كذا، وإن سبق فرسي فلي عليك كذا زيلعي وكذا إن قال إن سبق إبلك أو سهمك إلخ تتارخانية (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاص فقط فلا تكون مقامرة لأنها مفاعلة منه زيلعي اھ(ج6،ص403،ط:سعید)۔