السلام علیکم!میری بہن اپنی عدت کے بارے میں جاننا چاہتی ہے، وہ 7 ماہ سے شوہر سے علیحدگی اختیار کر چکی ہے، 10 جولائی 2024 کو عدالت سے شوہر کی موجودگی اور رضامندی میں اسے خلع دے دی گئی۔ وہ جاننا چاہتی ہے کہ اس کی عدت کب شروع ہوگی؟ اور کتنی مدت کے لیے؟ وہ ایک یونیورسٹی میں نوکری کر رہی ہے اور اس کی ایک 7 ماہ کی بیٹی ہے، جس کی وہ دیکھ بھال کرتی ہے، کیا وہ صبح سے شام 4 بجے تک جاب جاری رکھے گی یا اسے گھر پر ہی رہنا چاہیے؟ براہِ مہربانی اس سوال کا جواب دیں کیونکہ اگر اس کے لیے گھر پر رہنا لازمی ہے تو اسے چھٹی کے لیے یونیورسٹی اتھارٹی سے اجازت لینا ہوگی، فی الحال اسے عدالتی احکامات موصول نہیں ہوئے ہیں اور اس عدالتی حکم کا اردو میں ترجمہ کرنے کے لیے عدالت 1 ماہ کا وقت لے گی، براہِ مہربانی اس کے لیے فتویٰ جاری کریں تاکہ وہ چھٹی کی درخواست دے سکے۔
صورتِ مسئولہ میں جس تاریخ کو میاں وبیوی کے درمیان باہمی رضامندی سے خلع کا فیصلہ صادر کیا گیاتو اس خلع سے سائلہ کی بہن پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے،اور فیصلہ کے بعد سے اس کی عدت کا دورانیہ شروع ہوچکا ہے،چنانچہ اس وقت کے بعد سے سائلہ پر تین ماہواریاں گزرجانے تک عدت گزارنا لازم ہوگا،اور تیسری ماہواری مکمل ہونے پر اس کی عدت مکمل ہوکر وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی،جبکہ دورانِ عدت سائلہ کی بہن کے لیے نوکری کی خاطر گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں،بلکہ اسے چاہیے کہ وہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کو اپنا مذکور عذر بتلاکر ان سے رخصت منظور کرالے ،اور عدت گھر میں ہی گزارنے کا اہتمام کرے۔
کمافی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: فإن كانت معتدة من نكاح صحيح وهي حرة مطلقة بالغة عاقلة مسلمة والحال حال الاختيار فإنها لا تخرج ليلا ولا نهارا سواء كان الطلاق ثلاثا أو بائنا أو رجعيا أما في الطلاق الرجعي فلقوله تعالى {لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [الطلاق: 1] قيل في تأويل قوله عز وجل {إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [الطلاق: 1] إلا أن تزني فتخرج لإقامة الحد عليها، وقيل: الفاحشة هي الخروج نفسه أي إلا أن يخرجن فيكون خروجهن فاحشة، نهى الله تعالى الأزواج عن الإخراج والمعتدات عن الخروج وقوله تعالى {أسكنوهن من حيث سكنتم} [الطلاق: 6] والأمر بالإسكان نهي عن الإخراج والخروج ولأنها زوجته بعد الطلاق الرجعي لقيام ملك النكاح من كل وجه فلا يباح لها الخروج كما قبل الطلاق إلا أن بعد الطلاق لا يباح لها الخروج وإن أذن لها بالخروج بخلاف ما قبل الطلاق (الی قولہ) بخلاف المطلقة فإن نفقتها على الزوج فلا تحتاج إلى الخروج حتى لو اختلعت بنفقة عدتها، بعض مشايخنا قالوا؛ يباح لها الخروج بالنهار للاكتساب؛ لأنها بمعنى المتوفى عنها زوجها، وبعضهم قالوا: لا يباح لها الخروج؛ لأنها هي التي أبطلت النفقة باختيارها والنفقة حق لها فتقدر على إبطاله، فأما لزوم البيت فحق عليها فلا تملك إبطاله، وإذا خرجت بالنهار في حوائجها لا تبيت عن منزلها الذي تعتد فيه الخ(ج3 ص204/205 کتاب الطلاق،فصل فی احکام العدۃ ط: سعید)۔
وفی الدر المختار: (و) حكمه أن (الواقع به) ولو بلا مال (وبالطلاق) الصريح (على مال طلاق بائن) وثمرته فيما لو بطل البدل كما سيجيء.اھ(ج3 ص444 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج الخ(ج1 ص526 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: (وشرطه) شرط الطلاق
(وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين الخ(ج1 ص488 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0