گناہ و ناجائز

کسی عورت سے نکاح کرکے باندی بناسکتے ہیں؟

فتوی نمبر :
76614
| تاریخ :
2024-07-15
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کسی عورت سے نکاح کرکے باندی بناسکتے ہیں؟

السلام علیکم! کیا میں کسی غریب گھر کی عورت سے شادی کر کے اس کو باندی بنا سکتا ہوں؟ یعنی وراثت میں اس کا یا اس سے ہونے والی اولاد کا حصہ نہ ہو اور جب اس کو آزاد کرنا چاہوں آزاد بھی کر دوں ۔رہنمائی فرما دیں۔ جزاک اللہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ باندی کا اطلاق شرعاً ان غیر مسلم عورتوں پر کیا جاتا ہے،جو مسلمانوں اور کفار کے مابین قتال (جہاد) کے نتیجے میں قید ہوکر مسلمانوں کے قبضے میں آجاتی ہیں اور مسلمان حاکم یا تو اس کو دیگر مسلمان قیدیوں کے مقابلے میں رہا کردیتا ہے یا فدیہ لے کر آزاد کردیتا ہے ورنہ اس کو مسلمان غازیوں میں بطور مال غنیمت تقسیم کردیا جاتا ہے، جبکہ ہمارے زمانے میں بین الاقوامی معاہدوں کی وجہ سے عملاً اس کا کوئی وجود نہیں رہا، جبکہ کسی بھی آزاد عورت پر شرعاً باندی کا اطلاق نہیں ہوتا، لہٰذا کسی بھی آزاد عورت کو باندی سمجھ کر اس سے نکاح کئے بغیر ازدواجی تعلق قائم کرنا (اگر چہ عورت کی رضامندی سے کیوں نہ ہوں) زنا کے زمرے میں آنے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

و فی صحیح البخاری: عن أبي هريرة: عن النبي -صلى اللَّه عليه وسلم- قال: "قال اللَّه: ثلاثة أنا خَصْمُهم يوم القيامة، رجل أعطى بي ثم غدر، ورجل باع حرًّا فأكل ثمنه، ورجل استأجر أجيرًا فاستوفى منه، ولم يعط أجره".(ج۳، ص۸۲، ط۔دار طوق النجاۃ)۔
و فی تکملۃ فتح الملہم: فالاسلام أباح الاسترقاق بشرط أن یکون فی جھاد شرعی ضد الکفار، فبینما کان الرومانیون یستعبدون الأشخاص علی ارتکاب بعض الذنوب، وبینما کانوا یسترقون أولاد الاماء، علاوۃ علی أساری الحروب، نادی الاسلام بأنہ لایجوز استرقاق أحد الا فی جھاد شرعی، ثم ان الاسترقاق لیس السبیل الوحید لمن أسر فی جھاد شرعی، وانما الامام لہ فی أمرھم خیارات أربعۃ: اما أن یقتلھم و اما أن یسترقھم، واما أن یطلقھم بأخذ الفدیۃ، واما أن یمن علیھم فیطلقھم بغیر أخذ شیئ۔ فلیس الاسترقاق فی الاسلام شیئا واجبا، وانما ھو اباحۃ فی جملۃ اباحات أربعۃ، الخ (ج1، ص263، کتاب العتق، ط۔دارالعلوم)۔
وفیھا أیضاً: وینبغی أن یتنبہ ھنا الی شیئ مھم، وھو أن أکثر أقوام العالم قد أحدثت الیوم معاھدۃ فیما بینھما، وقررت أنھا لاتسترق أسیرا من أسای الحروب، وأکثر البلاد الاسلامیۃ الیوم من شرکاء ھذہ المعاھدۃ، ولاسیما أعضاء "الأمم المتحدۃ" فلا یجوز لمملکۃ اسلامیۃ الیوم أن تسترق أسیرا ما دامت ھذہ المعھدۃ باقیۃ۔ وأما ھل یجوز احداث مثل ھذا العھد؟ فلم أر حکمہ صریحا عند المتقدمین، قالظاھر أنہ یجوز، لأن الاسترقاق لیس بشیئ واجب، ونما ھو مباح من بین المباحات الأربعۃ، والخیار فیھا الامام، ویبدو من أحکام فضل العتق وغیرہ أن التحرر أحب ال الشریعۃ الاسلامیۃ، فلا بأس باحداث مثل ھذا العھد ما دامت الأقوام الأخری موافقۃ علیہ غیر ناقصہ لہ، واللہ سبحانہ و تعالی أعلم بالصواب۔اھ (ج1، ص272، کتاب العتق، ط۔دارالعلوم)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 76614کی تصدیق کریں
0     688
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات