کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بہنوئی نے 6\19\2024 کو میری بہن کو ان الفاظ سے طلاق دی کہ "میں آزاد کرتا ہوں، طلاق دیتا ہوں ، اب میری بہن عدت گزار رہی ہے ، معلوم یہ کرنا ہے کہ عدت کا خرچہ از روئے شرع میرے بہنوئی پر لازم ہے یا نہیں ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کے بہنوئی نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "میں آزاد کرتا ہوں، طلاق دیتا ہوں " کہہ دیے ہوں تو اس سے اس کی بیوی پر دو رجعی طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ، چنانچہ شوہر اگر دورانِ عدت زبانی طور پر رجوع کرلے یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کرلے یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چھولے تو اس سے بھی رجوع درست ہوکر دونوں کا نکاح بدستور بر قرار رہے گا ، ورنہ دورانِ عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر دونوں کا نکاح ختم ہوکر عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ، جبکہ سائل کی بہن اگر عدت کے ایام شوہر (سائل کا بہنوئی )کے گھر ہی میں گزار رہی ہو یا شوہر کی رضامندی سے میکے میں گزار رہی ہو ، تو ہر دو صورت عدت کا خرچہ دینا شوہر پر لازم ہوگا ، البتہ سائل کی بہن شوہر ( بہنوئی ) کی طرف سے عدت گزارنے کے لئے رہائش وغیرہ کا بند و بست ہونے کے باوجود اپنی مرضی سے اگر دوسری کسی جگہ چلی جاتی ہے اور عدت شوہر کے گھر نہیں گزارتی تو ایسی صورت میں ایامِ عدت کا نان نفقہ شوہر پر لازم نہ ہوگا ۔
كما قال الله تعالى : أَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُّجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوْهُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ وَ اِنْ کُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِه وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُه فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللهُ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُّسْرًا ( سورة الطلاق :6-7 )-
و في البحر الرائق : المعتدة إذا خرجت من بيت العدة تسقط نفقتها ما دامت على النشوز فإن عادت إلى بيت الزوج كان لها النفقة والسكنى، ثم الخروج عن بيت العدة على سبيل الدوام ليس بشرط لسقوط نفقتها فإنها إذا خرجت زمانا وسكنت زمانا لا تستحق النفقة (کتاب الطلاق، باب النفقة، ج4، ص 217 ، ط : دار الكتاب الإسلامي)-
وفي الدر المختار : (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه الخ (كتاب الطلاق، فصل في الحداد، ج 3 ، ص 536 ، ط : سعيد)-
وفي الفتاوى الهندية : المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان ( الفصل الثالث في نفقة المعتدة ، ج 1، ص 557 ، ط : دار الفكر، بيروت)-
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0