گناہ و ناجائز

فحش ویڈیوز دیکھنے سے بچنے کا طریقہ

فتوی نمبر :
74335
| تاریخ :
2024-07-04
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

فحش ویڈیوز دیکھنے سے بچنے کا طریقہ

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں فحش مواد کی لت میں مبتلا ہوں اور میں نے ارادہ کیا کہ میں دوبارہ اسے نہیں دیکھوں گا اور اللہ کے قریب آنے کی کوشش کروں گا، اس مقصد کے لئے میں نے ہر نماز کو تکبیر اولیٰ کے ساتھ پڑھنے، تہجد پڑھنے، اگلے 40 دن روزے رکھنے، روزانہ قرآن پاک کا ایک پارہ اور اس کا ترجمہ پڑھنے، صبح و شام 100 بار استغفار، تیسرا کلمہ، اور درود ابراہیمی پڑھنے اور دیگر اذکار کرنے، افطار کے بعد جاگنگ کرنے اور گھر میں ہوتے ہوئے کسی بھی ڈیوائس کا استعمال نہ کرنے کا عہد کیا ہے، یہ چوتھا دن ہے اور میں نے تقریباً سب کچھ کیا ہے، ہاں کچھ چیزیں چھوڑ دی تھیں جیسے کہ قرآن پڑھنا اور موبائل فون کا استعمال، بدقسمتی سے آج رات میں پھسل گیا اور فحش مواد دیکھ لیا،اب میں سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ واقعی کام کرے گا؟ اتنی محنت کرنے کے باوجود بھی میں گناہ کر بیٹھا، کیا اس سے واقعی کوئی فرق پڑے گا؟ میں پھنس گیا ہوں اور اس کے بارے میں افسردہ ہوں، یہ لت میری تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، اور جب میں مایوس ہوتا ہوں تو مجھے دوبارہ اس کی طلب ہوتی ہے، دو دن پہلے میں اللہ کے بارے میں سوچنے لگا اور اس کے لئے محبت کا احساس محسوس کیا، لیکن آج میں نے پھر گناہ کیا، مجھے نہیں معلوم کہ کیا کروں، میرے پاس اس بارے میں بات کرنے کے لئے کوئی نہیں ہے، میرے پاس جذباتی حمایت کی کمی ہے؛ میری والدہ فوت ہو چکی ہیں، میرے والد چھوڑ کر چلے گئے، اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے، میری بہنیں میرا خیال رکھتی ہیں، لیکن میں ان سے جذباتی طور پر جڑا ہوا نہیں ہوں، اور میں اپنی مشکلات ان سے شیئر نہیں کر سکتا، ہم پروفیشنل لوگوں کی طرح اکٹھے رہتے ہیں،مجھے نہیں معلوم کہ مجھے اس لت کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لئے اور کتنی کوششیں کرنی ہوں گی، پچھلے مہینے، میں نے یہی روٹین 40 دنوں کے لئے اپنائی تھی، اور حالانکہ میں اسے مکمل طور پر فالو نہیں کر سکا، لیکن میں نے اپنی پوری کوشش کی اور 40 دنوں تک فحش مواد نہیں دیکھا، لیکن پھر میں نے دوبارہ لغزش کی اور ایسا لگا جیسے میری تمام محنت ضائع ہو گئی، روزے، ذکر، نماز، سب کچھ کرنے کے باوجود، میں پھر ناکام ہو گیا، میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں، لیکن میں بار بار ناکام ہو رہا ہوں، کیا میں صحیح طریقہ اختیار کر رہا ہوں، یا مجھے کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ" انسان خطا کار ہے مگر بہترین خطا کار وہ ہے جو اللہ سے رجوع کرکے معافی مانگتا رہے" ،لہذا سائل کو بھی چاہیے کہ جب اس سے ذکر کردہ تمام کوششوں کے باوجود دوبارہ یہ گناہ سرزد ہو جائے، تو نا امید ہونے کے بجائے اللہ تبارک و تعالی سے بصدق دل معافی مانگتے ہوئے سابقہ بد اعمالوں کی طرف توجہ کیے بغیر دوبارہ اعمال صالحہ کی پابندی کرتا رہے اور گناہوں سے بچنے کی فکر کوشش میں لگا رہے امید ہے اللہ تبارک و تعالی دستگیری فرمائیں گے، نیز ان کوششوں کے ساتھ ساتھ اسے چاہیے کہ تنہائی میں زیادہ وقت گزارنے کے بجائے گھر والوں میں گھلا ملا رہے اور کسی متبع سنت شیخ و مرشد اور نیکو کاروں سے تعلق قائم کر کے ان کی صحبت میں رہا کرے ،انشاءاللہ اس تدبیر سے گناہوں سے بچنے میں آسانی میسر ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی:وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلزِّنَىٰٓۖ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةٗ وَسَآءَ سَبِيلٗا الایۃ (الاسراء،ایۃ:32)
وفی التفسیر المظھری: وَلا تَقْرَبُوا الزِّنى اى لا تأتوا بدواعيها من العزم عليه- او على بعض مقدماتها فضلا ان تباشروه إِنَّهُ اى الزنى كانَ فاحِشَةً فعلة ظاهرة القبح زائدته وَساءَ سَبِيلًا الخ(ج5 ص436)۔
وفی سنن الترمذی:عن انس بن مالک عن النبیﷺ قال:کلُّ بني آدمَ خطّاءٌ، وخيرُ الخطّائينَ التَّوّابونَ الحدیث(٢٤٩٩)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ حسن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 74335کی تصدیق کریں
2     3284
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات