میری بیوی اپنے سابق یونیورسٹی کے سینئر کے ساتھ تعلقات میں ہے , جس سے وہ مکمل طور پر انکار کرتی ہے، مجھے شک ہے کہ انہوں نے زنا کیا ہے لیکن میں نے اس سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا اور اب لڑکا برطانیہ میں پڑھ رہا ہے-
1: کیا میں کچھ کر سکتا ہوں اگر اس نے زنا کیا ہو، تو وہ اس پر نادم ہو اور اس کے لئے اللہ سے اور مجھ سے بھی معافی مانگے ؟(لیکن میں اس سے اس بارے میں سوال نہیں کرنا چاہتا، اور میں اس پر تہمت نہیں لگانا چاہتا) -
2-کیا میں اس لڑکے کو جھوٹے دلائل سے اس لڑکی کے سامنے دھوکہ باز اور بلیک میلر بنا سکتا ہوں ؟
3-اگر میں ایسا کر سکتا ہوں تو کیا اللہ قیامت کے دن اس پر ظاہر کر دے گا کہ یہ سب جھوٹ تھا؟ اللہ ظاہر کرے یا نہ کرے، میں کیا کر سکتا ہوں کہ آخرت میں مجھے اور میری بیوی کو جنت ملے اور وہ اس لڑکے کے بجائے مجھے پسند کرے ؟ میں اور وہ 5 سال سے تعلقات میں تھے، صرف میسج اور فون کی حد تک , اس نے مجھے چھوڑ دیا اور اس لڑکے کے ساتھ رشتہ شروع کر دیا اور مجھ سے انکار کر دیا میں نے اسے زبردستی اٹھا لیا اور نکاح کرلیا، اور 11 ماہ بعد میرے گھر والوں نے ہمیں قبول کر لیا جبکہ اس کے والد نے ہماری شادی قبول کر لی، لیکن اس کی بہنوں نے نہیں کی،کوئی بھائی نہیں ہے، اس کی والدہ 3 سال پہلے فوت ہوگئی۔ .ہم دنیا کے سامنے عام طور پر رہتے ہیں لیکن جب ہم اپنے کمرے میں ہوتے ہیں تو ہم لڑتے نہیں ہیں، ہم ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور روزمرہ کے معاملات میں اچھی طرح سے بات چیت کرتے ہیں، براہ کرم پوائنٹ 4,3,2 پر میری وسیع رہنمائی کریں اور کیا میں ایسا منصوبہ بنا سکتا ہوں کہ میں اے آئی کا استعمال کروں یا اپنے پولیس دوست کے ذریعے اس لڑکے کے قریبی دوست کی فیک وائس کال یا فیک تصویریں بنواؤں ؟یا اس لڑکی کو اغواء کراؤں جس سے وہ یہ سمجھے کہ اس لڑکے نے اغواء کیا ہےتاکہ وہ اس لڑکی کو برے لوگوں پر بیچ رہا ہے،تو اس صورت میں لڑکی یہ سمجھے گی کہ وہ لڑکا دھوکہ باز ہے، بلیک میلر اور زیادتی کرنے والاہے۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائل کی بیوی نے سائل کے نکاح میں ہوتے ہوئے بھی کسی اجنبی مرد سے بات چیت اور تعلق استوارکر رکھا ہو تو وہ اپنے اس عمل کی وجہ سے گناہ گار ہورہی ہے، جس پر اس پر اللہ کے حضور صدقِ دل سےتوبہ واستغفار اور آئندہ کے لئے ان امور سے مکمل اجتناب لازم ہے، تاہم سائل کا بلاکسی ثبوت کے اپنی بیوی پر زنا جیسے گناہِ کبیرہ کا الزام لگانا اور اس کے آڑ میں مذکور لڑکے پر جھوٹے مقدمات بناکر اسے بلیک میل کرنا بھی شرعاً ناجائز اور حرام فعل ہے جس سے بالکلیہ اجتناب لازم ہے، جبکہ سائل کی بیوی جب سائل سے نکاح کرنے پہ راضی نہیں تھی تو انہیں اس طرح اغوا کرکے نکاح پر مجبور کرنا بھی شرعاً ،اخلاقاً اور قانوناً ہر اعتبار سے غلط تھا جس کی وجہ سے سائل کے نکاح میں ہوتے ہوئے بھی وہ غیرشرعی رابطوں اور بات چیت میں مصروف ہے، لیکن اب جب نکاح ہوچکا ہے تو سائل کو چاہیئے کہ اپنی بیوی کو بلیک میلنگ کے ذریعہ اپنی طرف راغب کرنے کے بجائے اسے پیارومحبت اور اپنائیت دے کر اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرے اور اپنے سابقہ گناہوں پر اللہ کے حضور صدقِ دل سے توبہ واستغفار بھی کرتا رہے، امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سب بہتر ہوجائے گا۔
کما قال اللہ تعالیٰ : و الذین اذا فعلوا فاحشۃ أو ظلموا أنفسھم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم و من یغفر الذنوب الا اللہ و لم یصروا علیٰ ما فعلوا و ھم یعلمون الآیۃ ( آل عمران آیت 135 ) ۔
و فی سنن ابن ماجۃ : عن ابن مسعود : قال : قال رسول اللہ ﷺ " التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ " ( ج 1 ، رقم الحدیث 425 ) ۔
و فی رد المحتار تحت : ( قولہ لا یجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ ) و لا علیھا تسریح الفاجر الا اذا خافا أن لا یقیما حدود اللہ فلا بأس أن یتفرقا اھ مجتبی و الفجور یعم الزنا و غیرہ الخ ( کتاب الحظر و الاباحۃ ، ج 6 ، ص 427، ط : سعید)۔