کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس ضمن میں کہ :
میں ایک طلاق یافتہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں، اس کی 5 سال کی بیٹی بھی ہے، اس نے عدالت کے ذریعے اس وقت خلع لی جب اس کی بیٹی 3سال کی تھی۔ جبکہ اس کے شوہر نے اسے اس کے والدین کے گھر اس وقت چھوڑا تھا جب وہ 4 ماہ کی حاملہ تھی , اس کے بعد آج تک پلٹ کر نہیں دیکھااور نا ہی آج تک اس کے سابق شوہر نے کبھی بھی اپنی بیٹی تک سے ملاقات کی , نا شکل تک دیکھی، اس لئ میں اس کی بیٹی کو گود لینا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس بچی کے کاغذات میرے نام کے ساتھ بنائے جائیں، یہ صرف دستاویزات کی حد تک ہوگا. کیوں کہ دونوں اطراف سے ہر ایک رشتہ دار پہلے سے ہی جانتا ہے کہ وہ میری بچی نہیں ہےمیری حقیقی بیٹی نہیں کیا یہ شرعاً جائزہے؟ کیوں کہ اس کے والد مستقبل میں برتھ سرٹیفیکیٹ، بے فارم، شناختی کارڈ یا پاسپورٹ سمیت کسی بھی ڈاکومنٹیشن میں شامل نہیں ہونگے , نا بچی کی والدہ انہیں شامل کرنا چاہتی ہیں. براہ ِکرم رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہوکہ کسی بھی بچے یا بچی کی ولدیت اسکے حقیقی والد کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اس لئے سائل کے لئے مذکور بچی کو اپنی طرف منسوب کرنا اور سرکاری و غیر سرکاری تمام دستاویزات میں اسکے حقیقی والد کا نام لکھنے کے بجائے اپنا نام درج کرانا جائز نہیں جس سے احتراز اور بچی کی ولدیت کے طور پر اسکے حقیقی والد کا نام درج کرنا لازم اور ضروری ہے-
جبکہ سائل جس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے اگر اس نے اپنے شوہر کی اجازت اور رضامندی سے بذریعۂ عدالت خلع حاصل کی ہو اور اب اسکی عدت بھی گزر چکی ہو تو سائل کے لئے اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز اور درست ہے ورنہ نہیں۔
کما قال اللہ تعالی: وَمَا جَعَلَ أَدۡعِيَآءَكُمۡ أَبۡنَآءَكُمۡۚ ذَٰلِكُمۡ قَوۡلُكُم بِأَفۡوَٰهِكُمۡۖ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلۡحَقَّ وَهُوَ يَهۡدِي ٱلسَّبِيلَ ۔ ٱدۡعُوهُمۡ لِأٓبَآئِهِمۡ هُوَ أَقۡسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ فَإِن لَّمۡ تَعۡلَمُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ فَإِخۡوَٰنُكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمۡۚ (الاحزاب: 4-5)۔
وفی الصحیح للبخاری: عن عاصم قال: سمعت أبا عثمان قال: «سمعت سعدا، وهو أول من رمى بسهم في سبيل الله، وأبا بكرة، وكان تسور حصن الطائف في أناس فجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالا: سمعنا النبي صلى الله عليه وسلم يقول: من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم، فالجنة عليه حرام» (رقم الحدیث،4326، ج5،ص156، ط؛السلطانیۃ)۔
وفي احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع (إلى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها اھ (ج 3، ص 153) ۔
وفي التاتارخانية: الخلع عقد يفتقر الى الايجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض الخ (ج 3، ص 453، ادارۃ القرآن)۔