السلام علیکم
میری شرعی طلاق ہو گئی ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ اگر والد ظالم ہو، یعنی مارتا پیٹتا ہو تو کیا والدہ کورٹ كے ذریعے بچے چھین سکتی ہے ؟ اور والد كے بچوں سے ملنے پر پابندی لگوا سکتی ہے ، آیا یہ شرعی طور پر جائز ہے ؟
اور کیا بچوں پر سختی کرنے سے والد کا حق بچوں پر ختم ہو جاتا ہے ؟
اگر والدہ بچوں کو مارے تو کیا ماں كے بھی بچوں سے ملنے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے یا نہیں ؟
اور کیا بچوں پرسختی کرنے سے والدہ کا حق بچوں پرختم ہو جاتا ہے ؟
کیا ایک عورت طلاق كے بعد غیر ملک میں اکیلے رہ سکتی ہے بچوں كے ساتھ، جبکہ اس ملک ( یوروپ ) میں اسکا کوئی محرم بھی نہ ہو؟
اگر بچوں میں بالغ لڑکیاں بھی ہوں جنکی عمر 13 اور 11 سال ہے تو کیا ماں یہ کہتی ہے كہ میں تو بچوں كے ساتھ ہوں اکیلی تو نہیں ؟ اِس صورت میں جبکہ گھر میں صرف ایک عورت تقریباً 37 سال کی 2 بچیاں عمر 11 اور 14سال اور ایک لڑکا عمر 6 سال رہتا ہو اور کوئی بھی محرم نہیں ہو اس ملک میں ، تو کیا اسکا رہنا جائز ہے؟
کیا اس عورت کا کورٹ كے ذریعے بچیاں باپ سے چھینا جائز ہو گا ؟
طلاق كے بعد عورت شوہر كے مال متاع پر قبضہ کر سکتی ہے ؟
اگر یہ کہہ کر قبضہ کرے كہ میں بچوں کو پال رہی ہوں، جبکہ اوپر بتائی گئی صورت میں والد راضی نہیں كہ عورت بچے اکیلے پالے، اِس صورت میں قبضہ جائز ہو گا ؟
اگر عورت كو مقامی قانون كے مطابق سابقہ شوہر كے ہر مال پر آدھا حصہ ملے تو کیا یہ شرعی طور پر جائز ہو گا ؟
واضح ہوکہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کی صورت میں بچے خواہ والدین میں سے کسی کے پاس ہوں ،دوسرے کو ملاقات وغیرہ سے روکنا شرعاً ناجائز اور ظلم پر مبنی عمل ہے ،جس سے احتراز لازم ہے،جبکہ طلاق کی صورت میں لڑکے کی عمر سات سال اور بچیوں کی عمر نو سال مکمل ہونے تک اس کی پرورش کی حقدار ان کی ماں ہے ، بشرطیکہ اس دوران وہ ان بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے، ورنہ ماں کا حق ختم ہوکر نانی کو حاصل ہوگا، اگر نانی نہ ہو یا وہ پرورش کرنے سے انکار کردے تو پھر ان بچوں کی دادی کو حق پرورش حاصل ہوگا، البتہ مذکور مدت کے بعد اگر والد ان بچوں کو اپنی تحویل میں لینا چاہے تو لے سکتا ہے، عورت کو روکنے کا شرعاً حق نہیں،البتہ اگر والد واقعۃً ظالم ہویا والدہ ظالم ہو اور والد یا والدہ کے حوالہ کرنے سے ان بچوں کے ضیاع کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں والدہ کے حوالے کرنے کے بجائے اس کی نانی/دادی/خالہ/پھوپھی،کے حوالے کیا جائے گا اور مذکور مدت کے بعد والد کے بجائے ان کے دادا یا چچاؤں کے حوالہ کیا جائے گا، جبکہ کسی عورت کا بغیر محرم کے دوسرے ملک میں شرعی پردہ کا خیال رکھتے ہوئے اکیلے رہنا درست ہے، نیز طلاق کی صورت میں عورت صرف اپنے حق مہر کی حقدار ہوگی اس کے علاوہ شوہر کے مال پر قبضہ کرنا ،یامقامی قانون کے مطابق شوہر کے مال میں سے آدھا حصہ لینا شرعاً جائز نہیں،جس سے بہرصورت احتراز لازم ہے۔
کما فی رد المحتار تحت(قوله: إخراجه إلخ) أنت خبير بأن هذا محمول على ما إذا لم يكن لها حق الحضانة إذ لو كان لها الحضانة لا تمكنه من أخذه منها فضلا عن إخراجه عنها إلى قرية، أو بلدة قريبة، أو بعيدة خلافا لما في النهر كما مر فافهم، ثم لا يخفى أنه مخالف لما مر عن السراجية ولما يأتي عن شيخه الرملي بل ولما مر عن المجمع والبرهان لأن ما في الحاوي يشمل ما بعد الاستغناء وهذا هو الأرفق بالأم ويؤيده ما في التتارخانية: الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعهده الخ(باب النفقۃ،ج3،ص571،ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمدرحمه الله تعالى إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح اھ(باب فی الحضانۃ، ج 1، ص 542، ط: ماجدیہ) ۔
وفیہ ایضاً: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي الخ(باب في الحضانة،ج1،ص571،ط:ماجدیہ)۔
وفی رد المحتار تحت: (قوله: ما لم يعقل ذلك) ) أي ما لم يعقل الولد حالها، وحينئذ يجب تقييد الفجور بأن لا يلزم منه ضياع الولد كما لا يخفى. وفي النهر: ما لم تفعل ذلك، وفسره بقوله أي ما لم يثبت فعله عنها وهو صحيح أيضا اهـ ح. وفيه أن قول القنية " معروفة بالفجور " يقتضي فعلها له ط فالمناسب الأول وتكون الفاجرة بمنزلة الكتابية، فإن الولد يبقى عندها إلى أن يعقل الأديان كما سيأتي خوفا عليه من تعلمه منها ما تفعله فكذا الفاجرة. وقد جزم الرملي بأن ما في النهر تصحيف،والحاصل أن الحاضنة إن كانت فاسقة فسقا يلزم منه ضياع الولد عندها سقط حقها وإلا فهي أحق به إلى أن يعقل فينزع منها كالكتابية اھ(باب الحضانۃ،ج3،ص556،سعید)۔
وفی الدر المختار: (بلغت الجارية مبلغ النساء، إن بكرا ضمها الأب إلى نفسه) إلا إذا دخلت في السن واجتمع لها رأي فتسكن حيث أحبت حيث لا خوف عليها (وإن ثيبا لا) يضمها (إلا إذا لم تكن مأمونة على نفسها) فللأب والجد ولاية الضم لا لغيرهما كما في الابتداء بحر عن الظهيرية الخ
وفی رد المحتار تحت: (قوله: ضمها الأب إلى نفسه) أي وإن لم يخف عليها الفساد لو حديثة السن بحر، والأب غير قيد، فإن الأخ والعم كذلك عند فقد الأب ما لم يخف عليها منهما، فينظر القاضي امرأة مسلمة ثقة فتسلم إليها كما نص عليه في كافي الحاكم(باب الحضانۃ،ج3،ص568،ط:سعید)۔
وفی بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ: قد ذكرنا في الجواب عن السُّؤال السابع أن النسوة المسلمات لا ينبغي لهن السفر إلى بلاد غير المسلمين للدراسة أو الاكتساب، وأما إذا كانت المرأة قد توطنت إحدى هذه البلاد مع محارمها، ثم بقيت مفردة لموت محارمها، أو انتقالهم من ذلك المكان لسبب ما ، فإنه لا مانع لها من الإقامة بمفردها،ما دامت ملتزمة بأحكام الشرع في الحجاب.اھ(اقامۃ النساء بمفردھن،ج1، ص338،ط:معارف القرآنٖ)۔
وفی درر الاحکام فی شرح مجلۃ الاحکام: لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الخ(المادة96،ج1،ص96،ط:دار الجيل)۔