جادو سحر اور جنات کیلئے ہندو پادری سے تعویز اوردم کرنا شریعت میں جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ دم و درود اور تعویز کے جائز ہونے کےلئے ضروری ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے ناموں، کلام اللہ یا ایسے کلمات سے استعانت لی جائے جن کے معنیٰ معلوم ہوں اور اس میں کفر و شرک کا شائبہ تک نہ ہو، جبکہ ہندو یا دیگر غیر مسلم جو منتر وغیرہ پڑھتے ہیں اس میں عموماً شرکیہ اور کفریہ کلمات سے استعانت لیتے ہیں اس لئے علاج کےلئے ان کے پاس جا کر علاج کروانا جائز نہیں۔
کما فی تکملۃ فتح الملھم: قال الحافظ فی الفتح: (أجمع العلماء علی جواز الرقی عند اجتماع ثلاثۃ شروط: أن یکون بکلام اﷲ تعالٰی أو بأسمائہ وصفاتہ، وباللسان العربی أو بما یعرف معناہ من غیرہ، وأن یعتقد أن الرقیۃ لا تؤثر بذاتھا، بل بذات اﷲ تعالٰی) ولعلہ أراد بالشرط الأول أن لا یکون فیہ استمداد بغیر اللہ، وإلا فالظاھر أن ذکر إسم اللہ لیس بشرط (إلی قولہ) وأما الحادیث التی ورد فیھا النھی عن الرقی، أو الاحادیث التی أثنٰی فیھا علی الذین لا یسترقون فانھا محمولۃ علی رقی الکفار التی تشتمل علی کلمات الشرک أو الاستمداد بغیر اﷲ تعالٰی أو الرقی التی لا یفھم معناھا، فإنھا لا یؤمن أن تودی الی الشرک فمنع منھا إحتیاطا اھ (ج4،صـــ295،ط:دار العلوم)۔