کیا یہ بات خصوصی طورپر قرآن یا حدیث میں ثابت ہے کہ حضرت یونس علیہ السلم مچھلی کے پیٹ میں چالیس دن رہے ؟
برائے مہربانی وضاحت فرمائیں کیونکہ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ چالیس دن مکمل نہیں ہوئے، کیونکہ چالیس دن کی کوئی معتبر دلیل موجود نہیں ہے۔ جزاك الله خيرا
اس سلسلہ میں اگر چہ حضرات مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، جن میں سے ایک قول چالیس دن کی مدت کا بھی ہے ،جو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے، لہذا علی الاطلاق اس کی نفی کرنا درست نہیں،مگر یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ اس کی نفی یا اثبات پر قبر یا آخرت یا دنیا ہی کا کوئی ضروری یا غیر ضروری کام موقوف ہو، اس لئے اس لا یعنی مسئلہ میں پڑ کر ضیاع وقت سے احتراز لازم ہے۔
ففي تفسير ابن كثير: فكان من المدحضين أي المغلوبين، (إلی قوله) واختلفوا في مقدار ما لبث في بطن الحوت فقيل ثلاثة أيام قاله قتادة. وقيل سبعة قاله جعفر الصادق رضي الله عنه، وقيل أربعين يوما قاله أبو مالك اھ (7/ 34)۔
و في التفسير المظهري: قال ابن مسعود ابتلعه الحوت فاهوى به الى قرار الأرض السابعة وكان فى بطنه أربعين ليلة اھ (5/ 58)۔
و في تفسير البغوي: فخرجت القرعة عليه فألقى نفسه في الماء. قال ابن مسعود رضي الله عنه: ابتلعه الحوت فأهوى به إلى قرار الأرض السابعة، وكان في بطنه أربعين ليلة اھ (2/ 436)۔
مسلیمہ کذاب زندیق تھا یا مرتد؟اسے بغاوت کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا یا دعویٰ نبوت کی وجہ سے؟زندیق کے توبے کا حکم
یونیکوڈ واقعات 0