کچرا والی بوڑھیا کا واقعہ من گھڑت ہے ؟ مولانا طلحہ السیف صاحب اس واقعے کو من گھڑت کہتے ہیں ،جبکہ مولانا مکی صاحب کہتے ہیں کہ سچا واقعہ ہے۔
تلاش بسیار کے باوجود یہ واقعہ ہمیں کسی معتبر کتاب میں نہیں ملا ، لہذا جب تک اس کی کوئی معتبر روایت نہ ملے، اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر کے ذکر کرنے سے احتراز چاہئے۔
یہ غیر معتبر روایت یوں ہے کہ ایک عورت آپ ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھا دیتی تھی اور جب آپ ﷺ گزرتے تو آپ ﷺ پر کچرا پھینکتی تھی، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ اس جگہ سے گزرے تو وہاں کانٹے نہیں تھے ، آپ ﷺ کو تعجب ہوا، آپ ﷺ نے لوگوں نے پوچھا کہ یہاں ایک عورت مجھ پر کچرا پھینکتی تھی وہ کہاں ہے ، آج اس نے کچرا نہیں پھینکا؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ بیمار ہے ، آپ ﷺ اس کی عیادت کرنے اس کے گھر گئے اور اس کی خیریت دریافت کی، اس عورت نے جب آپ ﷺ کے یہ اخلاق دیکھے تو بہت متاثر ہوئی، اور بالآخر مسلمان ہو گئی۔
روایت کا حکم : تلاش بسیار کے باوجود یہ روایت سندا تا حال ہمیں کہیں نہیں مل سکی، اور جب تک اس کی کوئی معتبر سند نہ ملے اسے آپ ﷺ کےانتساب سے بیان کرنا مو قوف رکھا جائے، کیونکہ آپ ﷺ کی جانب صرف ایسا کلام و واقعہ ہی منسوب کیا جا سکتا ہے جو معتبر سند سے ثابت ہو۔
مسلیمہ کذاب زندیق تھا یا مرتد؟اسے بغاوت کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا یا دعویٰ نبوت کی وجہ سے؟زندیق کے توبے کا حکم
یونیکوڈ واقعات 0