واقعات

اسرائیلی روایا ت کو بیان کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
90487
| تاریخ :
2026-01-01
تاریخ / تاریخ اسلام / واقعات

اسرائیلی روایا ت کو بیان کرنے کا حکم

السلام علیکم
بنی اسرائیل میں ایک شخص جن کا نام "کفل" بتایا جاتا ہے،ان کی توبہ کے متعلق بہت سارےواقعات بتائے جاتےہیں،براہ کرم اس کے متعلق صحیح روایت بتا کر ممنون فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور روایت کو علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر'' الجامع لأحکام القرآن'' میں کعب احبار کی نسبت سے اور ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب" التوابین " میں بغیر سند کے ذکر فرمایا ہے چونکہ یہ روایت اسرائیلیات سے تعلق رکھتی ہے اس لیے اس باب میں اہل علم کے مقررہ اصول کے مطابق اس کا حکم سمجھنا ضروری ہے۔
قال العلامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ "ولكن هذه الأحاديث الإسرائيلية تذكر للاستشهاد لا للاعتضاد؛ فإنها على ثلاثة أقسام: أحدها ما علمنا صحته مما بأيدينا مما يشهد له بالصدق، فذاك صحيح. والثاني ما علمنا كذبه بما عندنا مما يخالفه. والثالث ما هو مسكوت عنه لا من هذا القبيل ولا من هذا القبيل، فلانؤمن به ولانكذبه، ويجوز حكايته لما تقدم، ینظر مجموع الفتاوى(13/366)
ترجمہ: لیکن یہ اسرائیلی روایات اعتقاد کے لیے نہیں، بلکہ بطور استشہاد بیان کی جاتی ہے کیونکہ یہ تین قسموں پر مشتمل ہوتی ہیں۔
پہلی قسم وہ ہے جس کی صحت ہمارے پاس موجود دلائل سے ثابت ہو جائے جو اس کے سچا ہونے کی گواہی دیتے ہوں تو وہ صحیح شمار ہوتی ہے۔
دوسری قسم وہ ہے جس کا جھوٹ بنانا ہمارے پاس موجود دلائل سے معلوم ہو جائے کیونکہ وہ ان کے خلاف ہو تو وہ مردود ہوتی ہے۔
تیسری قسم وہ ہے جس کے بارے میں سکوت کیا جاتا ہے نہ یہ اس قسم میں داخل ہوتی ہے اور نہ اس قسم میں تو نہ ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں نہ تکذیب البتہ پہلے بیان کردہ اصول کے مطابق اس کو نقل کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
قال ابن کثیر رحمہ اللہ " وإنما اباح الشارع الرواية عنھم فی قوله: و حدثوا عن بنی اسرائیل، ولا حرج فیما قد یجوزہ العقل ،فأما فأما تحلیلہ العقول و یکم علیه بالبطلان ، ویغلب علی الظنون کذبه، فلیس من ھذا القبيل، واللہ أعلم:" ینظر تفسیر ابن کثیر " (7/394)
مزید یہ کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی یہ بھی تصریح فرمائی ہے کہ اسرائیلی روایات کو اصل بنا کر ذکر نہ کیا جائے بلکہ طبعن اور بطور تائید ذکر کیا جائے تاکہ اصل شرعی نصوص پر اعتماد باقی رہے۔
قال " لکن الاسرائیلیات إنما تذکر علی وجہ الاعتماد علیہا و حدھا " ینظر : مجموع الفتاوی (5/464)
چونکہ مذکور روایت میں شرعا کوئی قابل اعتراض امر موجود نہیں بلکہ اس میں توبہ اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالی کی رحمت کے نزول کا ذکر ہے اور قرآن کریم میں بھی استغفار کے بعد بارش کے نزول کا مضمون وارد ہوا ہے لہذا مذکورہ اصولوں کے تحت اس روایت کو نبی علیہ السلام کی طرف نسبت کیے بغیر بیان کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالقیوم قدوس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90487کی تصدیق کریں
0     143
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مشاجرہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ

    یونیکوڈ   اسکین   واقعات 0
  • واقعہ فدک کی حقیقت

    یونیکوڈ   اسکین   واقعات 0
  • واقعہ فدک

    یونیکوڈ   اسکین   واقعات 0
  • کیا صحابہ کرامؓ نے آپ علیہ السلام کا پیشاب پیا تھا؟

    یونیکوڈ   واقعات 0
  • حضرت عائشہ کو حضرت فاطمہ کے جنازے سے روکنے کی حقیقت

    یونیکوڈ   واقعات 0
  • جنگِ جمل کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   واقعات 1
  • غدیر خم اور واقعہ قرطاس سےمتعلق اہل سنت کا موقف

    یونیکوڈ   واقعات 0
  • مسلیمہ کذاب زندیق تھا یا مرتد؟اسے بغاوت کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا یا دعویٰ نبوت کی وجہ سے؟زندیق کے توبے کا حکم

    یونیکوڈ   واقعات 0
  • حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ میں مذکور عورت کا نام کیا تھا ؟

    یونیکوڈ   واقعات 0
  • طارق ابن زیاد کے کشتیاں جلانے کے واقعہ کی تحقیق

    یونیکوڈ   واقعات 0
  • شدادا کے جنت بنوانے کے واقعہ کی تحقیق

    یونیکوڈ   انگلش   واقعات 1
  • قارون کے جنت بنوانے کے واقعہ کی تحقیق

    یونیکوڈ   واقعات 0
  • اسرائیلی روایا ت کو بیان کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   واقعات 0
Related Topics متعلقه موضوعات