کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے ’’جنگِ جمل‘‘ کے بارے میں بتائیں کہ یہ جنگ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان ہوئی تھی؟ اور کیوں اور کب ہوئی تھی؟ اور کیا حضرت معاویہؓ نے (نعوذباللہ) حضرت عائشہؓ کو شہید کیا تھا؟ اور کیا اس جنگ کی وجہ سے ان کی شان میں کوئی فرق پڑتا ہے؟ برائے مہربانی مجھے ان سوالوں کا تفصیل سے جواب دیں خصوصاً جنگ جمل کے بارے میں، اصل میں مجھے ایک شیعہ نے یہ سوالات کہے تھے اور میں نے یہ بہت سے علماء سے پوچھا بھی ہے لیکن کوئی بھی تسلی نہیں کرسکا، برائے مہربانی آپ تسلی بخش جواب دیں۔ شکریہ
’’جنگِ جمل‘‘ حضرت علیؓ کے لشکر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی جماعت کے درمیان خوارج کے غلط فہمیاں پیدا کرنے اور پھوٹ ڈالنے کے سبب پیش آنے والا واقعہ ہے، جو ان کے آپس کی مصالحت کو ختم کرنے کی خارجی سازش تھی، یہ واقعہ 36 ہجری میں پیش آیا، ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شہادت کسی کے ہاتھوں بھی نہیں ہوئی تھی اس موقع پر ،اور نہ ہی کسی اور وقت، جبکہ اس واقعہ سے ان حضرات کی شان بھی متاثر نہیں ہوتی، بلکہ ہمارے لئے وہ بدستور قابلِ احترام ہی ہیں اور ہمیں یہ حق بھی نہیں پہنچتا کہ ان بزرگوں کے باہمی نزاع کا فیصلہ کریں۔
مزید تفصیلات کیلئے ’’سیرت عائشہ رضی اللہ‘‘ مؤلفہ حضرت سید سلیمان ندوی (رحمہ اللہ) اور ’’حضرت معاویہؓ اور تاریخی حقائق‘‘ مؤلفہ شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب (مدظلہ) کا مطالعہ انشاء اللہ مفید رہے گا۔ واﷲ اعلم
مسلیمہ کذاب زندیق تھا یا مرتد؟اسے بغاوت کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا یا دعویٰ نبوت کی وجہ سے؟زندیق کے توبے کا حکم
یونیکوڈ واقعات 0