حضرت ایک صاحب کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ شداد بادشاہ نے دنیا میں جنت بنوائی تھی اور اس میں پانی کی نہریں ، دودھ کی نہریں اور شہد کی نہریں تھی تو کیا واقعی میں کوئی شداد بادشاہ گزرا ہے اور اس نے واقعی دنیا میں ایسی جنت بنوائی تھی، برائے کرم جواب مرحمت فرما کر ممنون فرمائے، نوازش ہوگی ۔
شداد بادشاہ کے متعلق جو واقعہ مشہور ہے، جس کی کوئی اصل نہیں ہے علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ اور بعض دیگرمفسرین نے اس واقعہ کو موضوع و منگھڑت قرار دیا ہے، لہذا اسے نقل کرنے سے احتراز چاہیے ۔
کما فی تفسیر روح المعانی : و خبر شداد المذکور اخوہ فی الضعف ، بل لم تصح روایتہ کما ذکرہ الحافظ ابن حجر فھو موضوع ( سورۃ الفجر ، ج : 29 ، ص : 222 ، ط : امدادیہ )
وفی تفسیر ابن کثیر : وإنما نبهت على ذلك لئلا يغتر بكثير مما ذكره جماعة من المفسرين عند هذه الآية، من ذكر مدينة يقال لها: {إرم ذات العماد} مبنية بلبن الذهب والفضة، قصورها ودورها وبساتينها، وإن حصباءها (1) لآلئ وجواهر، وترابها بنادق المسك، وأنهارها سارحة، وثمارها ساقطة، ودورها لا أنيس بها، وسورها (2) وأبوابها تصفر، ليس بها داع ولا مجيب. وأنها تنتقل فتارة تكون بأرض الشام، وتارة باليمن، وتارة بالعراق، وتارة بغير ذلك من البلاد -فإن هذا كله من خرافات الإسرائيليين، من وضع بعض زنادقتهم، ليختبروا بذلك عقول الجهلة من الناس أن تصدقهم في جميع ذلك ( ج : 4 ، ص : 655 ، ط : قدیمی کتب خانۃ )
مسلیمہ کذاب زندیق تھا یا مرتد؟اسے بغاوت کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا یا دعویٰ نبوت کی وجہ سے؟زندیق کے توبے کا حکم
یونیکوڈ واقعات 0