میں ایک خطاب کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں جو کہ میرے ایک دوست نے تبلیغی سے سنا تھا کہ: جب اللہ پاک نے نفس کو پیدا کیا تھا تو اس سے کہا کہ میں کون ہوں، نفس اس کا جواب نہیں دے سکا، پھر اللہ پاک نے اُسے جہنم میں ڈال دیا طویل عرصہ بعد دوبارہ جب اسے نکالا اور اس کو دوبارہ کہا پھر وہ جواب نہ دے سکا ،تو اللہ پاک نے دوبارہ اُسے جہنم میں ڈال دیا، جب نفس دوبارہ نکلا تو ا سے معلوم ہو گیا کہ یہ سلسلہ چلتا رہے گا ،تو پھر اس نے کہا کہ: یا اللہ آپ میرے خالق ہیں ،یہی وجہ ہےکہ اللہ نے سترہ فیصد انسان میں اور تراسی فیصد اچھے اعمال میں رکھا ہے، لیکن اس کے باوجود ہم میں سے بہت سارے لوگ نفس کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں ۔اس کی صحت کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں، اور مذکور بات کو ن سی کتاب میں ملے گی ؟
بظاہر اس بات کی کوئی حقیقت اور اصل نہیں، بلکہ یہ من گھڑت اور فضول بات ہے۔ ایسی باتوں سے احتراز لازم ہے۔
مسلیمہ کذاب زندیق تھا یا مرتد؟اسے بغاوت کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا یا دعویٰ نبوت کی وجہ سے؟زندیق کے توبے کا حکم
یونیکوڈ واقعات 0