السلام علیکم !مفتی نعیم صاحب! شکر ادا کرنا جائز ہے ؟ اور کیا ہم اس میں اپنے لئے دعائیں مانگ سکتے ہیں؟ جیسے کہ ہم کرکٹرز کو دیکھتے ہیں گراونڈ میں سجدہ کرتے ہوئے جب وہ سو رنز بنا لیتے ہیں , برائے مہربانی اسلام کی روشنی میں میرے سوال کا جواب دیجئے ، جیسے کہ میں نے اپنے آفس میں بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ ظہر کی نماز کے بعد بطورِ شکرانہ سجدہ کرتے ہیں، نہ کہ قرآن کی تلاوت کے بعد۔
خوشی کے موقع پر شکرانے کے لۓباوضو ,قبلہ رخ ہو کر سجدۂ شکر کرنا مستحب ہے ، اور اس میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کے ساتھ ساتھ اپنے لئے بھی دعا مانگی جا سکتی ہے ، البتہ نماز کے بعد اس طرح کا سجدہ کرنے کو عوام مسنون سمجھتے ہیں ، ان کے اعتقاد کی درستگی کے لئے اس سے احتراز چاہیئے۔
في إعلاء السنن : عن أبى بكرة رضی الله عنه عن النبی صلی اللہ علیه و سلم : أنه كان إذا جاءہ أمر سرور أو يسربه خرّ ساجداً شكراً لله اھ (۷/ ۲۳۰)-
و في صحيح مسلم : عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : «أقرب ما يكون العبد من ربه ، و هو ساجد، فأكثروا الدعاء» اھ (1/ 350)-
و في الدر المختار : و سجدة الشكر : مستحبة به يفتى لكنها تكره بعد الصلاة لأن الجهلة يعتقدونها سنة أو واجبة و كل مباح يؤدي إليه فمكروه اھ (2/ 119)-
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے آپسی معاملات کو بیان کرتے ہوۓ ان کے لۓ نامناسب الفاظ استعمال کرنا
یونیکوڈ ثواب والے اعمال 0