کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا آپ علیہ السلام کے ساتھ کراماً کاتبین تھے، اگر تھے تو کیوں؟ جب کہ آپ علیہ السلام تو گناہوں سے معصوم تھے۔
نصوص کے اطلاق و عموم سے یہی مستفاد ہوتا ہے کہ کاتبین کرام آپ کے ساتھ بھی تھے، اب یہ سوال کہ جب آپ سے سیئات کا صدور ہی ممکن نہیں تو بائیں ہاتھ والا کیا لکھتا ہوگا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے وہ ان امور کا اندراج کرتا ہو جو ’’حسنات الأبرار سیئآت المقربین‘‘ کی قبیل سےہیں، یا اس کا وجود محض اپنے دائیں ہاتھ والے ساتھی پر گواہ کی غرض سےہو۔
ففی تفسير القرطبي: واختلف الناس في الكفار هل عليهم حفظة أم لا؟ (إلی قوله) فأخبر أن الكفار يكون لهم كتاب، ويكون عليهم حفظة. فإن قيل: الذي على يمينه أي شي يكتب ولا حسنة له؟ قيل له: الذي يكتب عن شماله يكون بإذن صاحبه، ويكون شاهدا على ذلك وإن لم يكتب. والله أعلم. (19/ 248) واللہ أعلم بالصواب!
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے آپسی معاملات کو بیان کرتے ہوۓ ان کے لۓ نامناسب الفاظ استعمال کرنا
یونیکوڈ ثواب والے اعمال 0