کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک جامع مسجد کے خطیب صاحب نے درجِ ذیل الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا:
1. ناظرہ کی کلاس کے نوسالہ بچہ سے امتحان لیتے وقت سبق میں غلطی آنے پر فرمایا کہ ’’کہ پڑھنے والا اور پڑھانے والا دونوں جہنمی ہیں۔ کیا اس طرح فتویٰ لگانا صحیح ہے؟
2. صحابہ کرام کو نشانہ بناتا ہو، مثلاً ’’جھوٹ‘‘ کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے دو صحابہ کرامؓ کا واقعہ سنایا جن کا زمین پر تنازع ہوا اور مقدمہ عدالتِ رسولﷺ میں چلا گیا، مدعی کے پاس گواہ نہ ہونے صورت میں مدعی علیہ سے قسم اُٹھانے کا فرمایا تو اب خطیب صاحب کے الفاظ یہ ہیں ’’صحابی رسول ہیں، مسجد نبویؐ میں نبی کریمؐ کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں، ایمان اتنا گِر گیا ہے کہ صحابی ہیں، لیکن جھوٹےہیں‘‘ اس کے بعد پھر وضاحت بھی نہیں کرتے کہ صحابہ کرامؓ کو اللہ نے معاف کیا ہے، حالانکہ خطیب صاحب کو بار بار کہا ہے کہ ایسے واقعات کے بعدصحابہ کرام کی عدالت بھی بیان کیا کریں، لیکن ان سب کے باوجود وہ باربار صحابہ کے ایسے واقعات پیش کرتے ہیں، جس سے ناقدین کو موقع ملتا ہے۔ کیا اُن کے لیے بحیثیتِ خطیب یہ الفاظ استعمال کرنا درست ہے؟
3. ایک جمعہ میں خطیب صاحب کے الفاظ یہ ہیں ’’باطل کے خِلاف اسلحہ اُٹھانے کا ذکر قرآن وسنت میں کہیں بھی نہیں ہے ،حضرت محمدﷺ کے پاس کون سا اسلحہ تھا، کوئی اسلحہ نہیں تھا‘‘۔ غزوۂ حنین میں صحابہؓ کے پاس اسلحہ تھا تو اُن کو اپنے اسلحہ پر ’’ایمان‘‘ ہوا ’’تکبراورگھمنڈ ہوا‘‘ اسی وجہ سے دشمن نے اس کو پچھاڑ کے رکھ دیا اور ’’دُم دبا کر بھاگ نکلے‘‘۔
کیا یہ جہاد کا صریح انکار نہیں ہے؟ نیز صحابہ کرام ’’اسلحہ پر ایمان‘‘ ’’تکبر اور گھمنڈ‘‘ اور دم دبا کر بھاگ نکلنے کے الفاظ استعمال کرنا ہمارے نزیک درست ہے؟ براہ ِمہربانی مفصّل و مدلل وضاحت فرمائیں اور یہ بھی فرمائیں کہ کیا ایسے شخص کو خطیب یا امام رکھنا صحیح ہے؟ اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
نوٹ: مذکورہ خطیب صاحب اپنے اِن تمام ’’اقوال‘‘ پر ڈٹے ہوئے بھی ہیں۔
صورتِ مسئلہ میں مذکور الفاظ اگر واقعۃً شخصِ مذکور نے ادا کیے ہیں تو اس صورت میں وہ اپنے ان الفاظ کی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی عدالت پر لب کشائی کرنے اور اُنہیں اپنی باطل اور ناجائز تنقید کانشانہ بنانے کی وجہ سے بلاشبہ گمراہ اور اہلِ سنت و الجماعت سے خارج ہوگیا ہے، اس پر ان باطل عقائد و نظریات سے احتراز لازم ہے۔ اور جب تک وہ علی الاعلان اپنی غلطی اور جہالت کا اقرار اور اعلان کر کے توبہ و استغفار نہ کرے ، اس وقت تک ایسے شخص کو منصبِ امامت جیسے عظیم منصب پر قائم رکھنا شرعاً جائز نہیں، لہٰذا منتظمہ کمیٹی پر لازم ہے کہ وہ اُسے سبکدوش کر کے کسی متقیّ و پرہیزگار اور متّبعِ سنت امام کا انتخاب کریں۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ (المائدة: 119)-
وفی شرح العقائد: ویکف عن ذکر الصحابة إلا بخیر لما ورد من الاحادیث الصحیحة فی مناقبهم و وجوب الکف عن الطعن فیهم کقوله علیه السلام: «لا تسبوا أصحابي، فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا، ما بلغ مد أحدهم، ولا نصفه» وکقوله علیه السلام (إلی قوله) اکرموا أصحابی فإنهم خیاركم الحدیث اھ (ص: ۱۶۲)-
و فی حاشية ابن عابدين:وإن كان يفضل عليا عليهما فهو مبتدع. اهـ. وهذا لا يستلزم عدم قبول التوبة. على أن الحكم عليه بالكفر مشكل، لما في الاختيار اتفق الأئمة على تضليل أهل البدع أجمع وتخطئتهم وسب أحد من الصحابة وبغضه لا يكون كفرا، لكن يضلل إلخ. (4/ 237)-
وفی البحرالرائق شرح کنز الدقائق: وكره إمامة العبد والأعرابي والفاسق والمبتدع والأعمى وولد الزنا اھ (3/40)۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے آپسی معاملات کو بیان کرتے ہوۓ ان کے لۓ نامناسب الفاظ استعمال کرنا
یونیکوڈ ثواب والے اعمال 0