السلام و علیکم !
مفتی صاحب جیسا کہ قرآن مجید میں سورۂ انفال کے آیت {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ } [الأنفال: 60] میں فرمایا گیا ہے ؟ میرا سوال یہ ہے کہ میں اگر جہاد کے تمام مسائل کے بارے میں علم حاصل کروں، اور اس کے ساتھ ہی ساتھ مختلف ہتھیاروں اور ساز وسامان کی مینو فیکچرنگ، اس کے ڈیزائن اور بنانے کے بارے میں علم حاصل کروں اس نیت سے کہ اللہ نے اس کا حکم دیا ہے، اور میں اس کو جہاد میں استعمال کروں گا ( جیسے حضرت داؤد علیہ السلام نے کیا) تو مجھے جاننا تھا کہ کیا مجھے اس نیت سے علم حاصل کرنے پر وہی اجر و فضلیت ملے گی جو علمِ دین حاصل کرنے پر ملتی ہے ؟
جہاد کے مسائل بھی دین کا حصہ ہیں، اس لئے سائل اگر جہاد کے مسائل سیکھ لے اور ساتھ ساتھ آلاتِ جنگ کے مینو فیکچرنگ اور ان کی ڈیزائننگ کے بارے میں معلومات حاصل کرے، تاکہ جہاد کے موقع پر اس کو استعمال کرنے میں کام آئیں، تو اس کو علم دین کے اس باب کو حاصل کرنے کا ثواب اور جہاد میں کام آنے والے آلات بنانے کا علم حاصل کرنے پر ثواب ملے گا۔
كما في الجامع لأحكام القرآن: عن عقبة بن عامر عن النبي صلى الله عليه وسلم : "إن الله يدخل ثلاثة نفر الجنة بسهم واحد صانعه يحتسب في صنعته الخير والرامي ومبله" . وفضل الرمي عظيم ومنفعته عظيمة للمسلمين ، ونكايته شديدة على الكافرين. قال صلى الله عليه وسلم : "يا بني إسماعيل ارموا فإن أباكم كان راميا" . وتعلم الفروسية واستعمال الأسلحة فرض كفاية. وقد يتعين. (8/ 36)۔
و في جامع بيان العلم وفضله: عن أبي هريرة، وأبي ذر قالا: «باب من العلم تتعلمه أحب إلينا من ألف ركعة تطوع، وباب من العلم تعلمه عمل به أو لم يعمل به أحب إلينا من مائة ركعة تطوع» وقالا: سمعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا جاء الموت طالب العلم وهو على تلك الحال مات شهيدا» اھ (1/ 121)۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے آپسی معاملات کو بیان کرتے ہوۓ ان کے لۓ نامناسب الفاظ استعمال کرنا
یونیکوڈ ثواب والے اعمال 0