سوال:میرا سوال یہ ہے کہ میرے نانا کے بھائی جب علم حاصل کرنے کے لیے گاؤں سے شہر گئے تو انہیں (Surname) کی ضرورت پیش آئی، چنانچہ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ “صدیقی” لکھنا شروع کر دیا، حالانکہ ہمارے خاندان کا حضرت ابوبکر صدیقؓ سے واقعی نسبی تعلق ہے یا نہیں، اس بارے میں ہمیں کوئی یقینی علم نہیں تھا۔اس کے بعد ہمارے خاندان میں جتنے بھی سرکاری کاغذات اور ڈاکیومنٹس بنے، سب میں “صدیقی” ہی لکھا جانے لگا، کیونکہ خاندان میں وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔ چنانچہ میرے نام کے ساتھ بھی “صدیقی” لکھا جاتا ہے، کیونکہ میرے والد، دادا اور نانا سب ایک ہی خاندان سے ہیں۔اب میں نے صحیح بخاری کی یہ روایت پڑھی:حدیث نمبر: 3508 «لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا كَفَرَ، وَمَنِ ادَّعَى قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
ترجمہ:حضرت ابوذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
“جو شخص جان بوجھ کر اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کو اپنا باپ ظاہر کرے، اس نے کفر کیا، اور جو شخص اپنے آپ کو ایسی قوم سے منسوب کرے جس سے اس کا کوئی نسبی تعلق نہ ہو، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔”
اب میرے تمام ڈاکیومنٹس، جیسے شناختی کارڈ، اسکول اور کالج کے سرٹیفکیٹس، بینک کے کاغذات اور دیگر تمام ریکارڈ میں “صدیقی” لکھا ہوا ہے۔ ایسی صورت میں میرے لیے کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ اپنے آبا و اجداد کے بجائے کسی دوسرے قبیلے، قوم یا برادری کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں ایسے شخص کے بارے میں سخت وعید وارد ہوئی ہے، اس لیے اپنے آپ کو کسی دوسری قوم یا قبیلے کی طرف منسوب کرنے سے احتراز لازم ہے۔ عام طورپر ’’صدیقی” اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کا نسب خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ کی اولاد میں سے ہو۔ لہٰذا جو شخص ان کی اولاد میں سے نہ ہو، اس کے لیے “صدیقی” نام اختیار کرنا درست نہیں،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے بیان کردہ حدیثِ مبارک کا حکم اسی شخص پر لاگو ہوگا، جو جان بوجھ کر اپنے آپ کو نسب کے لحاظ سےایسی قوم یا خاندان کی طرف منسوب کرے جس سے اس کا حقیقی نسبی تعلق نہ ہو ، جب کہ سائل کے والد کا مقصداگر اپنے نام کے ساتھ صدیقی کا لاحقہ لگا نے سےخاندانی نسب کا اظہار نہ ہو، بلکہ ایمانی نسب کے لئے اس کو اختیار کیا ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ، اب اگر لوگوں پر سائل کی خاندانی نسب سے متعلق "صدیقی" کا لاحقہ لگانے اشتباہ ہوتا ہو تو سائل اور اس کے خاندان والوں پرلازم ہے کہ وہ اس بات کا اظہا رکریں کہ یہ ا یک ایمانی نسب ہے نہ کہ خاندانی تاہم اگر سائل کے لیے ممکن ہو تو اس نام کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے، اور اگر اس میں دشواری یا قانونی و معاشرتی پیچیدگی پیش آئے تو اس پر مذکورہ حدیث کی وعید لاگو نہیں ہوگی۔
وفي تفسير ابن الكثير: وقد جاء في الحديث «من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلمه كفر» «6» وهذا تشديد وتهديد ووعيد أكيد في التبري من النسب المعلوم، ولهذا قال تعالى: ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم. ثم قال تعالى: وليس عليكم جناح فيما أخطأتم به أي إذا نسبتم بعضهم إلى غير أبيه في الحقيقة خطأ بعد الاجتهاد واستفراغ الوسع، فإن الله تعالى قد وضع الحرج في الخطأ ورفع إثمه، كما أرشد إليه في قوله تبارك وتعالى آمرا عباده أن يقولوا ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا [البقرة: 286]الخ(ج:6 سورۃ الاحزاب ص: 339 ، 338 ناشر : بیروت)
وفي كوكب الوهاج :انتسب إليه واتخذه أبًا أنفة عن أَبيه (وهو) أي والحال أن ذلك الرَّجل المنتسب لغير أَبيه (يعلمه) أي يعلم أن ذلك الغير ليس أباه ووالده (إلا كفر) ذلك المنتسب كفرًا حقيقيًّا يخرجه عن الملة إن استحل ذلك الانتساب لأنه استحل ما هو معلوم حرمته من الدين ضرورة وإلا كفر كفرًا بمعنى كفران نعمة الأبوة أي جحد حق أَبيه لأن انتسابه لغير أَبيه إما قذف أو كذب أو عقوق ولا شيء من ذلك بكفر، الخ(ج:2 باب من انتساب لغیر ابیہ ص :507 ناشر: دار طوق النجاۃ)