السلام علیکم!بعض علماء کی تقریروں سے مجھے یوں سمجھا آیا ہے کہ اگر مسلمانوں کی حکومت (جیسے پاکستان کی حکومت) کسی مباح کام سے منع کرنے کا قانون بنا دے خاص طور پر اگر حکومت اس قانوں بنانے میں عوام کا نفع مدنظر رکھے، تو حکومت کی بات ماننا واجب ہو جاتا ہے، اس کی اکثر مثال ٹریفک کے قوانین ماننے کی دی جاتی ہے، کہ لال بتی پر آگے بڑھنا گناہ کا کام ہے،اگر یہ ایسا ہی ہے، تو سوال یہ ہے کہ اگر حکومت ایسا قانون بنا دے کے مثلا 18 سال سے چھوٹے بچوں یا بچیوں کا نکاح نہ کرایا جائے، تو اگر کوئی اس قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو کیا وہ گناہ گار ہو گا؟ یا اگر قانون اس طرح کا بنا دیا جائے کے پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری بیوی سے نکاح نہ کیا جائے، تو اگر کوئی شخص ایسا کرے تو وہ گناہ گار ہو گا؟ اگر ایسا نہیں ہے تو براہ کرم سمجھا دیجئے کے میری سوچ میں کہاں غلطی ہے؟
واضح ہو کہ مملکتِ پاکستان کے تمام ان قوانین کی پاسداری کرنا جو قرآن و سنت کے موافق ہوں ، ہر ایک پاکستانی کا فریضہ ہے ، اور ان میں کسی بھی قانون کی خلاف ورزی کرنا بلا شبہ قابلِ مؤاخذہ جرم ہے ، البتہ اگر کوئی قانون ایسا ہو جو قرآن و سنت کے صریح نصوص کے خلاف بنایا گیا ہو، تو شرعاً اور آئین کی رو سے بھی کوئی مسلمان اس قانون پر عمل کرنے کا پابند نہ ہوگا ، بلکہ ایسے قانون کی تبدیلی یا ترمیم کے لئے ہر فرد کو شرعی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے آواز اُٹھانے کا حق حاصل ہوگا۔ اور یہ ہر خاص و عام کی شرعی ذمہ داری بھی ہے ،لہذا صورتِ مسئولہ میں کسی علاقہ میں کم عمر شادیوں اور دوسری شادی کی صورت میں نا انصافیاں یا دیگر مفاسد سامنے آرہے ہوں تو شریعت حکومت وقت کو ان مفاسد کی نشاندہی کر کے اس کی حوصلہ شکنی کی اگرچہ اجازت دیتی ہے، مگر اسلام میں چونکہ لڑکے یا لڑکی کے لیے نکاح کی کوئی خاص عمر متعین و مقرر نہیں کی گئی ہے، بلکہ کسی بھی عمر میں نکاح کرانے کی اجازت دی گئی ہے، نیز اسی طرح دوسری شادی کی اجازت کو اپنی تمام بیویوں کے درمیان ان کے لباس، نان و نفقہ، رہائش کی فراہمی اور شب باشی کے حوالہ سے برابری کرنے کی قیود سے مقید کیا ہے، نہ کہ پہلی بیوی کی اجازت سے، اس لیے نکاح کے لیے اٹھارہ سال کی عمر کا تعین کر کے اس سے پہلے نکاح کو قانونی جرم قرار دینا یا دوسری شادی کو پہلی بیوی کی اجازت سے منسلک کرنا شریعت کے عائلی قوانین سے متصادم اور ایک اضافی قید سے متصف کرنے کے مترادف ہے، اس لیے شریعت کے اصولوں کے برخلاف ہونے کی وجہ سے ان قوانین کی پاسداری کرنا لازم نہیں، اور نہ ہی ان قوانین کے خلاف ورزی کرنے والا شخص گنہگار ہوگا۔
كما في قوله تعالى : {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ } [النساء: 59]۔
وقال تعالی: وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ الآیۃ(سورۃ الطلاق، آیت 4)۔
وقال تعالی: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتَامٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانِكُمْ ذٰلِكَ أَدْنٰى أَلَّا تَعُوْلُوْا﴾(النساء:3)۔
وفي أحكام القرآن للجصاص: قال الله تعالى يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم قال أبو بكر اختلف في تأويل أولي الأمر فروي عن جابر بن عبد الله وابن عباس رواية والحسن وعطاء ومجاهد أنهم أولوا الفقه والعلم وعن ابن عباس رواية وأبي هريرة أنهم أمراء السرايا ويجوز أن يكونوا جميعا مرادين بالآية لأن الاسم يتناولهم جميعا لأن الأمراء يلون أمر تدبير الجيوش والسرايا وقتال العدو والعلماء يلون حفظ الشريعة وما يجوز مما لا يجوز فأمر الناس بطاعتهم والقبول منهم ما عدل الأمراء والحكام الخ(باب في طاعة أولي الأمر، ج 2، ص 264، ط: دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔
وفی صحیح لمسلم: عن عائشة، قالت: تزوجني النبي صلى الله عليه و سلم و أنا بنت ست سنين، و بنى بي و أنا بنت تسع سنين، الحدیث (کتاب النکاح، ص:456، ج:1، ط:قدیمی)۔
وفی مشکاۃ المصابیح: عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال: إذا کانت عند الرجل امرأتان فلم یعدل بینھما جاء یوم القیامۃ وشقہ ساقط اھ (کتاب النکاح ج 2 صـ 23 ط: بشری)۔
وفی عمدۃ القاری: قال العلامۃ العینی رحمہ اللہ تعالی فی شرحہ:" قوله: السمع أي إجابة قول الأمير، إذ طاعة أوامرهم واجبة ما لم يأمر بمعصية ،وإلا فلا طاعة لمخلوق في معصية الخالق. ويأتي من حديث علي رضی اللہ عنہ بلفظ:" لا طاعة في معصية ،وإنما الطاعة في المعروف، وذكر عياض:أجمع العلماء على وجوب طاعة الإمام في غير معصية، وتحريمها في المعصية،الخ (باب السمع والطاعة للإمام، ج 14، ص 221، ط: دار إحياء التراث العربي)۔
وفی الدر المختار: أمر السلطان إنما ينفذ إذا وافق الشرع، وإلا فلا الخ
وفی الرد تحت (قولہ:أمر السلطان إنما ينفذ) :أي يتبع، ولا تجوز مخالفته. وسيأتي قبيل الشهادات عند قوله :أمرك قاض بقطع أو رجم إلخ التعليل بوجوب طاعة ولي الأمر .وفي ط عن الحموي: أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا :أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة الخ( کتاب القضاء، مطلب طاعة الإمام واجبة،ج5،ص422،ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: وإذا أمر عليهم يكلفهم طاعة الأمير فيما يأمرهم به، وينهاهم عنه: لقول الله تبارك وتعالى:"يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم" . [النساء: 59] وقال عليه الصلاة والسلام : "اسمعوا وأطيعوا، ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع، ما حكم فيكم بكتاب الله تعالى" ولأنه نائب الإمام، وطاعة الإمام لازمة كذا طاعته، لأنها طاعة الإمام، إلا أن يأمرهم بمعصية، فلا تجوز طاعتهم إياه فيها، لقوله عليه الصلاة والسلام : "لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق الخ(کتاب السیر،فصل في بيان ما يندب إليه الإمام عند بعث الجيش أو السرية إلى الجهاد، ج7، ص99،ط:مطبعۃ الجمالیۃ بمصر)۔