گناہ و ناجائز

صفائی ستھرائی کی خاطر گھر میں پالی گئی بلیوں کو زہر دے کر مارسکتے ہیں ؟

فتوی نمبر :
72927
| تاریخ :
2024-05-04
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

صفائی ستھرائی کی خاطر گھر میں پالی گئی بلیوں کو زہر دے کر مارسکتے ہیں ؟

السلام علیکم سر!
میرا سوال ہے کہ میں اپنے سسرال میں رہتی ہوں جہاں دو بلیاں پالی ہوئی ہیں، وہ گھر میں بند رکھی جاتی ہیں، ایک بلی 10 سال کی ہے اور دوسری 12 سال کی، میری شادی کو ڈیڑھ سال ہو گیا ہے اور میرا پانچ ماہ کا بچہ ہے، ان بلیوں کے بال بہت زیادہ جھڑتے ہیں اور ہر جگہ میرے بچے کے منہ پر چپک جاتے ہیں، کپڑوں پر لگ جاتے ہیں، دوسری طرف یہ بلیاں ہر جگہ گندگی پھیلاتی ہیں، کچن میں بھی پیشاب و پاخانہ کرتی ہیں، پاکیزگی کا تو کوئی تصور باقی نہیں رہا، میرے شوہر اپنی اولاد اور بیوی سے زیادہ ان بلیوں کو پیار کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ بلیوں کو گھر سے نہیں نکال سکتے، بیوی کو نکال سکتے ہیں،میں بہت تنگ ہوں اور صفائی کی وجہ سے گھر سے بلیاں نہیں نکال سکتی، کیا میں انہیں زہر دے کر مار سکتی ہوں؟ مجھے خطرہ ہے کہ جب میرا بچہ ان بلیوں کو چھوئے گا تو وہ نکیل (نکال) ماریں گی اور کاٹ بھی سکتی ہیں ،کیونکہ وہ مجھے بھی مار چکی ہیں کئی بار پیار کرتے ہوئے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ بلی ایک بےضرر جانور ہے ،احادیث مبارکہ میں بھی اس کے حوالے سے گھروں میں بار بار چکر لگانے کا تذکرہ آیا ہے ،اس لئےگھروں میں بلی پالنا شرعا مباح ہے ،البتہ گھرمیں صفائی ستھرائی اور کھانے پینے کی جگہ اور اشیاء کی حفاظت بھی لازم اور ضروری ہے،لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ اگر اپنے شوہر کی رضامندی حاصل کرکے بلیوں کو قتل کئے بغیر گھر سے نکال لے یا گھر ہی میں مناسب انتظام کے ساتھ اس کےلئے کوئی جگہ مخصوص کرلے تو بہتر ہوگا، جبکہ شوہر کو بھی چاہیئے کہ اپنی اولاد واہلیہ کی فکر کریں اور گھرکے ماحول کو صاف ستھرارکھنے کا اہتمام کریں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافي الصحيح للمسلم: عن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: عذبت امرأة في هرة سجنتها حتى ماتت فدخلت فيها النار لا هي أطعمتها وسقتها، إذ حبستها، ولا هي تركتها تأكل من خشاش الأرض» اهـ ( کتاب قتل الحیات وغیرھا،باب تحریم قتل الھرۃ،ج7، ص : 43،ح2242،ط:الطباعۃ العامرۃ)۔
وفی سنن الترمذی:حدثنا إسحاق بن موسى الأنصاري قال: حدثنا معن قال: حدثنا مالك بن أنس، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن حميدة بنت عبيد بن رفاعة، عن كبشة بنت كعب بن مالك وكانت عند ابن أبي قتادة، أن أبا قتادة دخل عليها، قالت: فسكبت له وضوءا، قالت: فجاءت هرة تشرب، فأصغى لها الإناء حتى شربت، قالت كبشة: فرآني أنظر إليه، فقال: أتعجبين يا بنت أخي؟ فقلت: نعم، فقال:إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إنها ليست بنجس، إنما هي من ‌الطوافين ‌عليكم، ‌أو ‌الطوافات،وفي الباب عن عائشة، وأبي هريرة،: هذا حديث حسن صحيح الخ(ابواب الطہارۃ،باب ماجآء فی سور الھرۃ،ج1،ح92،ص153،ط:مصطفی البابی الحلبی مصر)۔
وفي الهندية: الهرة إذا كانت مؤذية لا تضرب ولا تعرك أذنها بل تذبح بسكين حاد كذا في الوجيز للكردري الخ (کتاب الکراھیۃ، الباب الحادي والعشرون فيما يسع من جراحات بني آدم والحيوانات ،ج 5،ص 361،ط: ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعید اللہ لطیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72927کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات