میری ایک15 سال کی سوتیلی بیٹی ہے ، میرے سے گناہ سرزد ہوگیاہے ، میں نے اس کے ساتھ زنا نہیں کیا ، لیکن دخول کے علاوہ باقی سب کیا ہے ،کیا اس کی ماں میرے اوپر حرام ہوگئی ہے یا نہیں؟ اس بیٹی کے علاوہ 3 سگے بیٹے ہیں، شریعت کے مطابق راہنمائی فرمادیں۔
واضح ہو کہ حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کے لئے باقاعدہ جسمانی تعلق ( ہمبستری ) کا قائم ہونا ضروری نہیں ، بلکہ اگر کوئی شخص کسی بالغ یا مراہق ( قریب البلوغ) لڑکی کو بلا حائل شہوت سے چھو بھی لیتا ہے تو اس سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے اور اس لڑکی کے اصول ( والدہ وغیرہ) و فروع ( بیٹی وغیرہ ) اس شخص پر حرام ہو جاتے ہیں ، لہذا صورت مسئولہ میں سائل نے اپنی سوتیلی بیٹی ( یعنی اپنی بیوی کی بیٹی ) کے ساتھ اگرچہ جسمانی تعلق قائم نہ کیا ہو اس کے باوجود محض سوتیلی بیٹی کو شہوت کے ساتھ بلا حائل چھونے اور بوس و کنار کر لینے سے بھی اس لڑکی کی ماں ( یعنی سائل کی بیوی) سائل پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو گئی ہے ، اب ان دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں ہے ، لہذا سائل کو چاہیئے کہ وہ فوراً اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی بیوی سے متارکت کے الفاظ ( یعنی میں نے تمہیں چھوڑ دیا ، تمہیں آزاد کردیا وغیرہ ) بھی کہہ دے ، تاکہ وہ عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکے ، جبکہ سائل کے ذمہ یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنے اس گناہ پر اللہ کے حضور بصدقِ دل توبہ و استغفار بھی کرے ، تاکہ مواخذہ اخروی سے نجات کی سبیل بھی پیدا ہو سکے ۔
كما في محيط البرهاني : وكان الشيخ الإمام ظهير الدين رحمه الله يفتي بالحرمة في القبلة على الفم والذقن والخد والرأس وإن كان على المقنعة وكان يقول : لا يصدق في أنه لم يكن بشهوة، الخ ( الفصل الثالث عشر في بيان أسباب التحريم، ج 3، ص 66، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-
و في الدر المختار : (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى الخ ( كتاب النكاح، ج 3، ص 32-33 ، ط : سعيد)-
و في الفتاوى الهندية : ولو مس ظفرها بشهوة تثبت، كذا في الخلاصة. ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة. ( القسم الثاني المحرمات بالصهرية ، ج 1، ص 274، ط : دار الفكر، بيروت)-