گناہ و ناجائز

اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا حکم

فتوی نمبر :
72891
| تاریخ :
2024-05-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا حکم

السلام عليكم!
میں دبئی میں ہوں۔میرے ساتھ رہنے واے بھی سب پاکستانی ہی ہیں۔آجکل فلسطین کی وجہ سے اسرائیلی اور امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ چل رہا ہے۔میرے ساتھی کھانے کے ساتھ پیپسی وغیرہ لے کر آتے ہیں تو میں نہیں پیتا۔جس کی وجہ سے میرا مذاق اڑایا جاتا ہے۔کہ تم لوگ موبائل ٹیکنالوجی(فیسک اور واٹس ایپ) کا بائیکاٹ کیوں نہیں کرتے۔وہ بھی تو یہودییوں کی ایجادات ہیں۔برائے کرم جواب دیں کہ ہم ایسے حالات میں کیا کریں۔جبکہ واٹس ایپ ہر ایک کی ضرور ت ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

فی الوقت جبکہ اسرائیل پوری قوت و طاقت کے ساتھ نہتے فلسطینیوں پر ظلم اور بربریت کررہا ہے، اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ غیرت ایمانی کا تقاضہ ہونے کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے ساتھ انکے غم میں شریک ہونے کے مترادف ہے، جو کہ موجب اجر وثواب ہے، اور فلسطینی بھائی بہنوں کی مدد کی خاطر ہر مسلمان کو اس بائیکاٹ کا حصہ بننا چاہیئے، لہذا سائل کے دوستوں کا سائل کے بائیکاٹ کا مذاق اڑانا غیرت ایمانی کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ ایمان کی کمزوری کی بھی علامت ہے، جس پر انکو چاہیے کہ بصدق دل توبہ کریں اور سائل اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ اس بائیکاٹ کا حصہ بنیں ۔
جبکہ اسرائیلی ٹیکنالوجیز یا ہر وہ ٹیکنالوجی جو اسرائیل کو فنڈدیتی ہے کے بائیکاٹ کا بھی یہی حکم ہے، جو دیگر عام چیزوں کا ہے، لیکن عام چیزوں کے متبادل چونکہ مارکیٹ میں بآسانی دستیاب ہیں جسکی وجہ سے معمولی مشقت کے ساتھ انکا بائیکاٹ کیا جاسکتا ہے، جبکہ ٹیکنالوجیز خاص کر مواصلاتی ٹیکنالوجیز کا بائیکاٹ اس وقت تک نہیں کیا جاسکتا، جب تک معاشرے کی ایک بڑی تعداد ایک ساتھ متبادل ٹیکنالوجیز پر منتقل نا ہوجائے، لہذا ایسی صورت میں صرف چند اشخاص کا مخصوص ٹیکنالوجیز کی بائیکاٹ غیر معمولی مشقت کا باعث بنتا ہے، اس لیے اگر اسرائیلی ٹیکنالوجیز سے نفرت کرتے ہوئے اسکا استعمال کیا جائے ،تو امید ہے کہ اس پر کوئی عقاب نا ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

قال الله تعالى في القرآن الكريم: «وَتَعَاوَنُوا عَلَى البِرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَان»، (المائدة آية 2)
وقال تعالى في القرآن الكريم: لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (الممتحنة:8)
فتاوی مفتی محمود میں ہے: "یہودی کمپنیوں کا مال خریدنا اور ان کو نفع پہنچانا جائز نہیں ہے، یہودی اسلام کے خلاف آج کل محارب ہیں، ان کے ارادے یہ ہیں کہ حجازِ مقدس بالخصوص مدینہ طیبہ زادہا اللہ شرفاً اور اس کے گرد و نواح کو فتح کر لیں، ان کے زعم میں یہ دراصل یہودی علاقے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہودِ مدینہ، بنی نظیر، بنی قینقاع، یہود خیبر ان علاقوں کے مالک تھے، اس حالت میں کوئی ایسی چیز بازار سے نہ خریدی جائے جس سے یہودی کی مالی پوزیشن مستحکم ہو، قرآن کریم میں ہے:ولا ينالون من عدو نيلا إلا كتب لهم به عمل صالح الآية، لا نکرہ ہے، تحت النفی مفید استغراق ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ دشمن کو کسی طرح کوئی بھی نقصان پہنچانا عملِ صالح ہے، فقہاء کی عبارات سے بھی اسی طرح کے حوالہ جات نقل کیے جا سکتے ہیں کہ مسلمانِ عالم کو اجتماعی طور پر یہودیوں کے اموال تجارت کا بائیکاٹ کرنا لازم ہے ۔"(ج:۱۱، ص:۲۰۴)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدابراہیم خلیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72891کی تصدیق کریں
3     2174
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات