میں 23 سال کا لڑکا ہوں، میں حرام گناہوں میں تھا اور اب میں نے ان گناہوں کو چھوڑ دیا ہے، لیکن دو گناہ اب بھی میرے ساتھ ہیں، تقریباً 5 سال پہلے میں دن میں کئی بار مشت زنی کرتا تھا، لیکن آج کل میں اتنی مشت زنی نہیں کرتا، عام طور پر مہینے میں ایک بار کرتا ہوں، لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب میں نے اس فعل کی سزا خود کو دینا شروع کر دی، میں تین دن روزے رکھتا تھا اور صدقہ کرتا تھا، اور جب دوبارہ کرتا تھا تو روزوں اور صدقات میں اضافہ کرتا تھا، تاکہ میں اس عمل سے باز رہوں، تقریباً ایک ماہ یا اس سے زیادہ روزے رکھنے اور صدقہ دینے کے بعد میں نے فوراً یہ کرنا چھوڑ دیا، اور اس کے بعد تقریباً 6 یا 7 ماہ تک اسے بھول گیا، اور سات مہینوں میں کبھی ایسا نہیں کیا، لیکن وہ مہینے گزرنے کے بعد میں دوبارہ اس کی طرف مائل ہونے لگا، اور ایک دن میں نے دوبارہ ایسا کیا اور روزہ رکھنا بھول گیا، کیونکہ میں اسے بالکل بھول چکا تھا، اور اس کے بعد میں نے اسے دو مہینے میں ایک بار کرنا شروع کر دیا، اور آہستہ آہستہ میں نے اسے مہینے میں ایک بار، اور پھر ہفتے میں ایک بار کرنا شروع کر دیا، اور اب میں خود پر قابو نہیں رکھ پا رہا تھا، تقریباً دو سال قبل میں نے فحش ویڈیوز دیکھنا چھوڑ دیا تھا، لیکن اب میں دوبارہ اس کی طرف مائل ہوں، میں نے پھر تین دن روزہ رکھنا شروع کر دیا اور صدقہ دیا، اور یہ کہ پھر اگر دوبارہ کروں تو ایک دن زیادہ روزہ رکھوں گا، اور اگر دوبارہ کروں تو صدقہ بڑھا دونگا، براہ مہربانی مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں؟ میں جانتا ہوں کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے، براہ کرم مجھے کوئی حل بتائیں تاکہ میں دوبارہ اس میں نہ پڑوں۔
واضح ہوکہ مشت زنی کرنا اور فحش ویڈیوز دیکھنا دونوں ناجائز، حرام اور کبیرہ گناہ ہیں، احادیث مبارکہ میں اس پر سخت وعید آئی ہے، چنانچہ ایک حدیث میں آیاہے کہ ہاتھ سے نکاح کرنے والا(مشت زنی کرنے والا)ملعون ہے، لہذا سائل پر لازم ہے کہ مذکورہ گناہوں کو بالکلیہ ترک کردے، اور جلد از جلد نکاح کی فکر کرے، تاہم جب تک نکاح کی کوئی ترتیب نہیں بن پاتی، تو کسی شیخ کامل بزرگ سے اپنا اصلاحی تعلق قائم کرکے ان کو اپنی اس صورت حال سے آگاہ کرکے انکے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرے، امید ہے کہ اس گناہ سے خلاصی ہوجائے۔
کما فی روح المعانی: ومن الناس من استدل علی تحریمہ بشئی آخر نحو ماذکرہ المشایخ من قولہ ﷺ "ناکح الید ملعون" وعن سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ عزاب اللہ تعالی امۃ کانوا یعبثون بمذاکیرھم وعن عطاء سمعت قوما یحشرون وایدیھم حبالی واظن انھم الذین یستمنون بایدیھم الخ (سورۃ المؤمنون/7 ط: ادارۃ الطباعۃ المطفائیۃ دیوبند)
وفی ردالمحتار: تحت (قولہ: الاستمناء حرام) ای بالکف اذا کان لاستجلاب الشھوۃ اما اذا غلبتہ الشھوۃ ولیس لہ زوجۃ ولا امۃ ففعل ذلک لتسکینھا فارجاء انہ لا وبال علیہ کم قالہ ابو اللیث ویجب لو خاف الزنا الخ (4 صـ27 باب الوطء الذی یوجب الحد والذی لایوجبہ ط: سعید)۔