گناہ و ناجائز

غیبت کی تعریف اور جن مواقع میں غیبت کی گنجائش ہے ان کی تفصیل

فتوی نمبر :
72583
| تاریخ :
2024-04-19
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

غیبت کی تعریف اور جن مواقع میں غیبت کی گنجائش ہے ان کی تفصیل

میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میں کسی کے بارے میں کچھ بتانا چاہتا ہوں جو اسے پسند نہیں ہے یا جو اس کے بارے میں سچ ہے یا اس کے رویے یا عادت کے بارے میں سچ ہے، کیا میں اسے کسی کو بتا سکتا ہوں اور غیبت میں کیا فرق ہے، میرا مطلب ہے کہ میں کتنا کر سکتا ہوں؟ کسی کو کسی کے بارے میں بتانا اسے غیبت میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ یا صرف میں غیبت کے درمیان سرحدوں کو جاننا چاہتا ہوں نہ کہ غیبت کے۔ کسی کے بارے میں بتانا کتنا جائز ہے اور کیا جائز نہیں یا نام نہاد غیبت کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

فقہاء کرام رحمہم اللہ نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں غیبت کی تعریف یہ ذکر کی ہے کہ کسی کی عدم موجودگی میں اس کے کسی ایسے (بُرے) وصف کا ذکر کرنا کہ معلوم ہونے پر اسے ناگوار گزرے، تاہم اہل علم نے بعض صورتوں کو (جو صورتاً غیبت شمار ہوتی ہیں) غیبت سے مستثنیٰ کیا ہے، چنانچہ وہ صورتیں غیبت میں شامل نہیں، ذیل میں اس کی مختصر سی وضاحت ذکر کی جاتی ہے۔
(1)مظلوم شخص کا دفع ظلم کے لئے کسی ایسے شخص کے سامنے ظالم کی غیبت کرنا جو دفع ظلم پر قادر ہو، جائز ہے۔
(2)تغییر منکر (یعنی برائی کو ختم کرنے) کی نیت سے استاذ، امیر، بادشاہ وغیرہ اصحاب ولایت و قدرت کے سامنے غیبت کرنا جائز ہے۔
(3)مفتی کے سامنے حکم شرعی معلوم کرنے کے لئے غیبت کرنا جائز ہے۔(تاہم اس وقت بھی نام مبہم رکھنا بہتر ہے)
(4)علانیہ گناہ کرنے والے کی غیبت، علانیہ گناہ کی بابت جائز ہے۔(تاہم اس کے مخفی گناہوں کا تذکرہ جائز نہیں)
(5)کسی کے شر سے لوگوں کو بچانے کے لئے اس کے مفسدہ کا ذکر نیک نیتی سے جائز ہے۔(جیسے شہود، روات پر جرح کرنا وغیرہ)
(6)تعارف کی غرض سے کسی کے ایسے عیب کا ذکر جس کے بغیر تعارف ناممکن ہو جائز ہے۔(جیسے کانا، لنگڑا وغیرہ)۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی روح المعانی للعلامۃ آلوسی: وقد تجب الغيبة لغرض صحيح شرعي لا يتوصل إليه إلا بها وتنحصر في ستة أسباب.
الأول التظلم فلمن ظلم أن يشكو لمن يظن له قدرة على إزالة ظلمه لا تخفيفه. الثاني الاستعانة على تغيير المنكر بذكره لمن يظن قدرته على إزالته. الثالث الاستفتاء فيجوز للمستفتي أن يقول للمفتي: ظلمني فلان بكذا فهل يجوز له أو ما طريق تحصيل حقي أو نحو ذلك والأفضل أن يبهمه.
الرابع تحذير المسلمين من الشر كجرح الشهود والرواة والمصنفين والمتصدين لإفتاء أو إقراء مع عدم أهلية فتجوز إجماعا بل تحب، وكأن يشير وإن لم يستشر على مريد تزوج أو مخالطة لغيره في أمر ديني أو دنيوي ويقتصر على ما يكفي فإن كفى نحو لا يصلح لك فذاك وإن احتاج إلى ذكر عيب ذكره أو عيبين فكذلك وهكذا ولا يجوز الزيادة على ما يكفي، ومن ذلك أن يعلم من ذي ولاية قادحا فيها كفسق أو تغفل فيجب ذكر ذلك لمن له قدرة على عزله وتولية غيره الخالي من ذلك أو على نصحه وحثه للاستقامة، والخامس أن يتجاهر بفسقه كالمكاسين وشربه الخمر ظاهرا فيجوز ذكره بما تجاهروا فيه دون غيره إلا أن يكون له سبب آخر مما مر.
السادس للتعريف بنحو لقب كالأعور، والأعمش فيجوز الخ (ج۱۳، ص۳۱۲،ط۔دارالکتب العلمیۃ)۔
و فی الدرالمختار: وفيها: الغيبة أن تصف أخاك حال كونه غائبا بوصف يكرهه إذا سمعه. عن أبي هريرة - رضي الله عنه - قال قال - عليه الصلاة والسلام -، «أتدرون ما الغيبة؟ قالوا الله ورسوله أعلم قال: ذكرك أخاك بما يكره قيل: أفرأيت إن كان في أخي ما أقول؟ قال: إن كان فيه ما تقول اغتبته، وإن لم يكن فيه فقد بهته» الخ(ج۶، ص۴۱۰،کتاب الحظر و الاباحۃ، فصل فی البیع،ط۔سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72583کی تصدیق کریں
0     796
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات