اگر میرے سابقہ شوہر کے بیٹے کا خرچہ کورٹ کے ذریعہ لگ جائے ، کیا میں اس میں سے اپنے والدین یا بہنوں کو خرچ کرنے کے لئے کچھ رقم دے سکتی ہو؟
سائلہ کے بیٹے کو اس کے والد (سائلہ کے سابق شوہر) کی طرف سے بذریعہ کورٹ جو خرچہ مل رہا ہے وہ سائلہ کے بیٹے کی ملکیت ہے، جسے بیٹے کی ضروریات (کھانے پینے وغیرہ) میں خرچ کرنا سائلہ کی ذمہ داری ہے،سائلہ کے لئے اس رقم میں سے اپنے والدین یا بہنوں کو خرچ کے لئے رقم دینا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
کمافی رد المحتار: لا يجوز أن يهب شيئا من مال طفله ولوبعوض لأنهاتبرع ابتداء(ج5،ص696،ط:سعید)۔
وفيها ایضاً: اتخذ لولده أو لتلميذه ثيابا ثم أراد دفعها لغيره ليس له ذلك ما لم يبين وقت الاتخاذ أنها عارية(ج5، ص696،ط:سعید)۔