میرا سوال یہ ہے کہ میری شادی کو چودہ سال ہوگئے ہیں ، اور ہمارے دو بچے ہیں ، چودہ سال کے بعد میری بیوی مجھ سےطلاق مانگ رہی ہے وہ بھی بغیر کسی وجہ کے ، میں نے طلاق دینے سے منع کر دیا ہے ، اب وہ کہہ رہی ہے کہ میں عدالت جا کر خلع لونگی ، اور خلع میں آپ کے اوپر کوئی الزام بھی نہیں لگاؤنگی ، وہ خود بھی کہتی ہے کہ کوئی شرعی عذر نہیں ہے ، وہ صرف دو وجوہات بتاتی ہے ۔ ( 1 ) ہمارے درمیان بنیادی عدم مطابقت ہے ( 2) ناقابل مصالحت اختلافات ہیں ، اور اختلافات میں ذہنی ہم آہنگی نہ ہونا ہے ۔ برائے مہربانی آپ سے فتوی چاہتے ہے کہ کیا مندرجہ بالا وجوہات کی بناء پر اگر عدالت یک طرفہ خلع دے تو کیا وہ جائز ہوگایا کالعدم ہوگا ؟ اور کیا میری بیوی میرے نکاح میں ہی رہے گی؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ، جس کی صحت کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے ، لہذا سائل کی بیوی اگر سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر بذریعہ عدالت خلع حاصل کرےگی تو اس سے شرعاً سائل اور اس کی بیوی کے درمیان نکاح ختم نہ ہوگا ۔
كما في بدائع الصنائع : و أما ركنه فهو الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة و لا يستحق العوض بدون القبول الخ ( ج ٣ ص 154، ط : سعید)-
و في رد المحتار : و أما ركنه فهو كما في البدائع : إذا كان بعوض الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة و لا يستحق العوض بدون القبول الخ ( باب الخلع ، ج ۳، ص 441، ط : سعید)-
و في المبسوط للسرخسي : و الخلع جائز عند " السلطان و غيره، لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود الخ ( باب الخلع ، ج 6 ، ص ۱۷۳، ط : مطبعة السعادة ، مصر)-