گناہ و ناجائز

لوگوں کو اپنا معتقد بنانے کے لئے قسم کے قسم کے دعوے کرنا

فتوی نمبر :
71637
| تاریخ :
2024-03-12
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

لوگوں کو اپنا معتقد بنانے کے لئے قسم کے قسم کے دعوے کرنا

قابل قدر علماءِ دین و شرع متین ،درج ذیل مسائل کے بارے میں سائل آپ کی راہنمائی چاہتا ہے نیز ان مسائل کی بنیاد پر مذکورہ شخص کے حوالے سے تحریری فتوی کا بھی طلب گار ہے ۔

1۔کیا شریعت ،طریقت یا تصوف میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ ایک شخص خود کو اللہ کا ولی کہےاور اپنے پاس آنے والے سائلین کے منہ سے کیلیں نکالنے اور آنکھ سے زنجیر بر آمد کرنے کے عمل کو اپنی کرامت قرار دےجبکہ ہم بطورِ میڈیا ٹیم آنکھ سے زنجیریں نکالنے اور منہ سے کیلیں بر آمد کرنے کا عمل عوامی طور پر کرکے یہ ثا بت کرچکے ہیں کہ یہ محض ایک کرتب اور فریبِ نظر ہے ،اور کیا کسی شخص کےلئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے پاس آنے والے مریضوں کو دنیاوی علاج سے روک دے ؟

2۔کیا مذکورہ بالا شخص کےلئے جائز ہے کہ وہ خود کو سپہ سالارِ ختمِ نبوت کہلوائے اور کہے ،ختم نبوت کے سینٹرز کے لئے اپنے نام پر مریدوں سے اربوں روپے کی جائدادیں وصول کرے جن کا وہ خود اعتراف کر چکا ہے،اور کیا ایسا شخص سپہ سالارِ ختمِ نبوت کے ٹائٹل کا حق دار ہوسکتا ہے جس نے آج تک عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے کوئی تقریر یا گفتگو نہ کی ہو اور اس موضوع پر کوئی آیتِ مبارکہ یا حدیث نہ سنائی ہو اور کیمروں کی موجودگی میں بار بار اصرار کے باوجود کوئی بھی آیت یا حدیث سنانے میں ناکام رہا ہو اور جس کی متعدد ویڈیوز موجود ہوں کہ وہ آستینیں چڑھا کر نماز پڑھ رہا ہے اور زرق برق لباس ،نمود و نمائش اور ظاہری حلیہ بھی قرآن و سنت کی ہماری سمجھ بوجھ سے مطابقت نہیں رکھتا ۔

3۔ایسے فرد کے بارے میں راہنمائی درکار ہے جو اپنے مریدوں کو اپنا جوتا دے اور مرید اس جوتے سے اپنے سامنے جن اتارنے کا دعوی کرے اور پھر ان کی موجودگی اور تائید میں وہ مرید یہ الفاظا ادا کرے کہ "جونام نہاد قسم کے مولوی اور پیر جنات کے نام پر آدھا آدھا گھنٹہ پڑھائیاں کرتے رہتے ہیں ،تین تین دن کےوظائف بتاتے ہیں تو وہ فلاں کے جوتے کے محتاج بھی نہیں ہیں ،جو طاقت اللہ کے ولی کے جوتے میں ہے وہ نام نہاد کسی مولوی کے وظیفے میں نہیں "اس دعوے ،یہ دعویٰ کرنے والے شخص اور ساتھ کھڑے ہو کر تائید میں سر ہلانے والے اس خود ساختہ اللہ کے ولی کے بارے میں بھی آپ کی راہنمائی اور فتوی درکار ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ دارالافتا ء سے جاری ہونے والے فتویٰ کی حثییت سائل کی ذکرکردہ تفصیلات (جس کے سچ یا جھوٹ ہونے کی ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے ) کے مطابق فقط حکم شرعی کی طرف راہنمائی ہوتی ہے ،اسے کسی شخصیت یا جماعت کے خلاف بطورِ چارج شیٹ،میڈیا ٹرائل اور پروپیگنڈا کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ادارے کی طرف سے اس کی اجازت ہوتی ہے ۔

اس تمہید کے بعد واضح ہوکہ شرعاً ولی ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو اللہ تعالی پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کو کثرت سے یاد کرنے والا ،خواہش نفسانی سے دور رہنے والا ،متبع سنت اور احکام شریعت کا پابند ہو،اور ایسے شخص کے ہاتھ اللہ تبارک وتعالیٰ کی منشاء سے غیر اختیاری طور پر کبھی کبھار خارقِ عادت امور کا صدور ممکن ہونا ،اہل سنت کے عقائد میں سے ہے اور انہیں امور کو کرامات سے تعبیر کیا جاتا ہے ،البتہ جو شخصیت مذکور ہ بالا صفات کی حامل نہ ہو تو اس کے ہاتھوں درج کردہ امور کے ساتھ ساتھ کسی بھی خارقِ عادت امر کے صادر ہونے کو اولیاء کی کرامات میں سے ایک کرامت قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی اس کی بنیاد پر لوگوں کو ان سے علاج معالجہ وغیرہ اختیار کرنے سے روکنا درست ہوگا ،جبکہ ختم نبوت کا اعتقاد رکھنے والے شخص کے لئے اس موضوع پر باقاعدہ تحریر یا تقریر کرنا کوئی لازم اور ضروری نہیں ،بلکہ حسب موقع اپنی بساط کے مطابق اس عقیدہ کا قانونی دفاع اور لوگوں میں اس کی آگاہی فراہم کرنے کی کوشش کرنے والوں کے ساتھ کسی بھی جائز طریقہ سے معاونت کرنا ہی کافی ہوگا ،البتہ اس معاونت کو عنوان بناکر لوگوں میں اسے شہرت و مقبولیت کا ذریعہ بنانا درست نہیں ،نیز کسی شخص کا اپنا اعتقاد عوام الناس کے دلوں میں بٹھانے کے لئے رقیہ وغیرہ کے سلسلہ میں دیگر با شرع حضرات کے مجرب اوراد و وظائف کے مؤثر ہونے کی با لکلیہ نفی کرنا بھی شرعاً مناسب طرز عمل نہیں بلکہ یہ اپنی ذات کے تزکیہ بیان کرنے کے مترادف ہے ،اس لئے اس روش سے بھی اجتناب چاہیئے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشکوۃ المصابیح:تداووا؛ فإن الله لم یضع داء إلا وضع له شفاءًا" اھ (8/341)۔
وفی سنن ابی داؤد:عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، قال: دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم المسجد، فإذا هو برجل من الأنصار، يقال له: أبو أمامة، فقال: «يا أبا أمامة، ما لي أراك جالسا في المسجد في غير وقت الصلاة؟»، قال: هموم لزمتني، وديون يا رسول الله، قال: «أفلا أعلمك كلاما إذا قلته أذهب الله همك، وقضى عنك دينك؟»، قال: قلت: بلى، يا رسول الله، قال: "قل إذا أصبحت، و إذا أمسيت: اللهم إني أعوذ بك من الهم و الحزن، و أعوذ بك من العجز و الكسل، و أعوذ بك من الجبن و البخل، و أعوذ بك من غلبة الدين، و قهر الرجال"، قال: ففعلت ذلك، فأذهب الله همي، وقضى عني دين اھ (1/227)۔
وفی شرح فقہ الاکبر:والولی ھو العارف بااللہ وصفاتہ بقدر ما یمکن لہ المواظب علی الطاعات المجتنب عن السیئات المعرض عن الانھماک فی اللذات والشھوات والغفلات واللھوات اھ (ص:130)
وفی الشامیۃ:والولي لا بد من أن يكون تابعا لنبي وتكون كرامته معجزة لنبيه، لأنه لا يكون وليا ما لم يكن محقا في ديانته واتباعه لنبيه؛ حتى لو ادعى الاستقلال بنفسه وعدم المتابعة لم يكن وليا بل يكون كافرا ولا تظهر له كرامة.فالحاصل أن الأمر الخارق للعادة بالنسبة إلى النبي معجزة، سواء ظهر من قبله، أو من قبل آحاد أمته، وبالنسبة إلى الولي كرامة لخلوه عن دعوى النبوة اھ(3/551)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71637کی تصدیق کریں
0     498
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات