کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا ”وال فریمز“ کا کارخانہ ہے جہاں ہم مختلف فریمیں آڈر پر بناتے ہیں، جن میں لوگ ہم سے آڈر پرقرآنی آیات، نوح،لوح قرآنی ، آیت الکرسی ، سورہ یسین اور سورہ رحمٰن وغیرہ اور دیگر قرآنی آیات فریم کرواتے ہیں، بعض اوقات کسٹمرزتصاویر فریم کروانے کیلئے لاتے ہیں جن میں جانوروں کی تصاویر بھی ہوتی ہیں اور انسانی تصاویر بھی، انسانی تصاویر میں بعض لوگ ضروری تصاویر فریم کرواتے ہیں (جیسے آرمی والے حضرات وغیرہ کی سرکاری تصاویر) اور بعض لوگ غیر ضروری تصاویر محض یادگار کے طور پر ہم سے فریم کرواتے ہیں، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ہمارے لئے جاندار کی پرنٹڈ تصاویر محض فریم کرکے دینا شرعاً کیسا ہےاور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کیا حکم ہے؟ یاد رہے کہ تصاویر پرنٹ کرنا ہمارا کام نہیں بلکہ کسٹمرز خو د ہی پرنٹ کروا کر ہمارے پاس صرف فریم کروانے کیلئے لاتے ہیں ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کا تصاویر کو محض فریم کرکے دینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، چاہے وہ کسٹمرز کی ضروری تصاویر ہوں یا غیر ضروری، اور اس پر حاصل ہونے والی اُجرت بھی حلال ہے،تاہم جاندار کی پرنٹڈ تصاویر چونکہ بالاتفاق حرام ہیں، لہذا غیر ضروری تصاویر فریم کرکے دینے سے بہرحال بچنا بہتر ہے۔
کما فی البزازیة: وإن إستأجرہ لیکتب له غناء بالفارسیة أو بالعربیة قیل لایحل الأجر والمختار أنه یحل، لأن المعصیة فی القراءة۔اھ (5/41)
وفی فقه البیوع: ومنع بعض الفقهاء البيع إن قصد به أحد المتعاقدين معصية، وعلم الآخر ذلك. فذهب الحنابلة إلى أن البائع إن كان عالماً بقصد المشترى، فإن البيع حرام وباطل، فلا يثبت ملك المشترى فى المبيع، ولا ملك البائع فى الثمن. جاء في المقنع وبيع العصير ممن يتخذه خمراً باطل. وقال ابن قدامة تحته: فإنما يحرم البيع ويبطل إذا علم البائع قصد المشترى ذلك إما بقوله، وإما بقرائن مختصة به تدلّ على ذلك. فأما إن كان الأمر محتملاً، مثل أن يشتريها من لا يعلم حاله، أو من يعمل الخل والخمر معاً، ولم يلفظ بما يدل على إرادة الخمر، فالبيع جائز، وإذا ثبت التحريم، فالبيع باطل۔اھ (1/187)
وفی رد المحتار: وأما فعل التصوير فهو غير جائز مطلقا لأنه مضاهاة لخلق الله تعالى كما مر، [خاتمة] قال في النهر: جوز في الخلاصة لمن رأى صورة في بيت غيره أن يزيلها؛ وينبغي أن يجب عليه؛ ولو استأجر مصورا فلا أجر له لأن عمله معصية۔اھ (1/ 650)
وفی المبسوط للسرخسي: أن الأصل في الأشياء الإباحة، وأن الحرمة بالنهي عنها شرعا۔اھ (24/77)