السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں محمد جہانگیر بات کر رہا ہوں اٹک سے، میرا مسئلہ میری بیٹی کے حوالے سے ہے میری بڑی بہن کی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے میں نے اور میری بیوی نے میری بہن کے بہت اصرار کرنے پر اپنی رضامندی سے اپنی تیسری بیٹی ان کو دی تھی، تاکہ ان کو اولاد کی کمی محسوس نہ ہو تو میرا سوال یہ ہے کہ Adoption کے بعد میرا یعنی اصل ماں باپ کا حق رہتا ہے اولاد پر؟ کیا ہم اس کے کسی اہم فیصلے کا اختیار رکھتے ہیں مثلا تعلیم، شادی کے معاملات میں ؟اور کیا اس کا وراثت میں حق بنے گا یانہیں؟ اور Legal Paper جیسے ڈگری ، شناختی کارڈ پر ماں باپ کے نام کی جگہ میرے بہنوئی کا نام ہوگا یا میرا ہی نام ہونا چاہیئے ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ کسی کی اولاد کو گود لینے سے ،وہ اولاد گود لینے والوں کی حقیقی اولاد کی طرح نہیں ہوتی، لہذا صورتِ مسؤلہ میں سائل کے بہنوئی کے لیے مذکور بچی کے سرکاری اور غیر سرکاری کاغذات وغیرہ میں اس کی ولدیت اپنی طرف منسوب کرنا جائز نہیں، بلکہ بچی کے حقیقی والد (سائل) کی طرف منسوب کرنا لازم ہوگا، البتہ سرپرست کے خانہ میں ان کا اپنا نام لکھوانا درست ہوگا، نیز سائل کی دیگر اولاد کی طرح مذکور بچی بھی سائل کے ترکہ میں حسبِ حصصِ شرعیہ حقدار ہوگی، جبکہ حقیقی والدین اور سرپرستوں (بہن اور بہنوئی) کو بچی کے مستقبل کی بہتری کے لئے باہمی مشاورت ے فیصلہ کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
کما قال اللہ تعالی: وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ الآیۃ (آیتـ 4 سورۃ الاحزاب)
و قال اللہ تعالی: اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ الآیۃ (آیتـ 5 سورۃ الاحزاب)
و فی صحیح البخاری: عن سعد قال سمعت النی ﷺ یقول من ادعی إلی غیر أبیہ وھو یعلم أنہ غیر أبیہ فالجنۃ علیہ حرام (باب من ادعی إلی غیر أبیہ ج2 صـ 533 )
وفی روح المعانی: قولہ تعالی (ادعوھم لآبآ ئھم) أی أنسبوھم إلیھم وخصوھم بھم أخرج الشیخان والترمذی والنسائی وغیرھم عن ابن عمر رضی اللہ عنہ أن زید ابن حارثۃ مولی رسول اللہ ﷺ ما کنا ندعوہ إلا زید بن محمد حتی نزل القرآن (ادعوھم لابائھم) فقال النبی ﷺ أنت زید بن حارثۃ بن سراحیل (ج12 صـ 147 )
وفی الدر المختار: (یقسم الباقی) بعد ذلک (بین ورثتہ) أی الذین ثبت إرثھم بالکتاب أو السنۃ کقولہ علیہ الصلاۃ والسلام أطعموا الجدات السدس أو الإجماع الخ (کتاب الفرائض ج6 ص761 ط: سعید)
وفی رد المحتار: تحت (قولہ أی الذین ثبت إرثھم بالکتاب) أی القرآن وھم الأبوان والزوجان والبنون والبنات، والإخوۃ والأخوات اھ (کتاب الفرائض ج 6 صـ 762 ط: سعید)