گناہ و ناجائز

بیوی سے غیر فطری مباشرت کرنا

فتوی نمبر :
71126
| تاریخ :
2024-02-22
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بیوی سے غیر فطری مباشرت کرنا

السلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ !
محترم علماءِ کرام !مسمیٰ بنت منور مسئلہ ہذا کے بارے میں علماءکی رائےجاننا چاہتی ہوں ،ہماری شریعت کا اس بارے میں کیاحکم ہے؟میری شادی کو سات سال ہو گئے ہیں ، دوبیٹے ہیں ، اور چھ ماہ کی حاملہ ہو ں ، میرے ماں باپ حیات نہیں ہیں ، نہ کوئی بڑا بھائی یا بہن ہے ، بس ایک چھوٹی بہن ہے ، میں اپنے شوہر کے نازیبا حرکات سے تنگ ہوں ، جیسے کہ وہ بولتےہیں ، مجھے جائز شرمگا ہ سے ہمبستری کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ، کہتے ہیں مجھے پچھلی شرمگاہ میں کرنے سے ہی لذت آتی ہے ، اور بہت بے ہودہ اور فحش فلمیں دیکھتے ہیں ، کچھ بھی سمجھاؤں تو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے،بولتے ہیں میرے (اعضائے تناسل ) یاعضوخاص کو منہ میں ڈالو اور زبردستی میرے ساتھ حرام کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں،میں کہتی ہوں کہ اس سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے ، تو کہتا ہے ، سچی توبہ کرنے سے نہیں ٹوٹتا، تو پھر اگر میں کہوں کہ سچی توبہ کرلیں ، مجھے اللہ تعالیٰ سے بہت ڈر لگتا ہے ، اور میں آپ کا گھر چھوڑکر چلی جاؤں گی ، تو کہتاہے ہاں ٹھیک ہے ، مگر پھر کچھ عرصے بعد پھر وہی حرکتیں شروع کردیتے ہیں ، اور ایک دفعہ میں ناراض ہو کر اپنی بہن کی گھر چلی گئی، تو پھر وہاں مجھے مناکر اور یہ وعدہ کرکے گھر لے گئےکہ آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں کروں گا ، لیکن پھر کچھ ٹائم بعد پھر وہی حرکتیں شروع کردیں ، کبھی سوتے میں تو کبھی جاگتے میں زبردستی کرتے اور میں ہر وقت اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتی اور تنگ رہتی ہوں ایسی حرکتوں سے ،مگر وہ باز نہیں آتے ، محترم میرے پاس الفاظ نہیں ہے کہ میں کیسے سمجھاؤں کسی کو , انکی حرکتیں عجیب اور درندہ قسم کی ہیں ، جیسے نوچنا بے ہودہ گفتگوہروقت ,کوئی بچوں کی کسی چیز یا کوئی کھانے کی چیز کی فرمائش کروں تو کہتے ہیں ، سب باتیں مانوں گا پہلے حرام کام کروں گا، اور میری بہن کو گندی گالیا ں دیتے ہیں ، اور مجھے میری ذاتی رنڈی کے نام سے بلاتا ہے ، بچوں سے بھی کوئی خاص لگاؤ نہیں ہے ، نہ وہ کبھی ہنسی مذاق یا گھر کے کسی معاملے پر بات کرتے ہیں ، میں 6 ماہ کی حاملہ ہو ں ،کچھ دن پہلے میرے ساتھ حرام طریقے سے زبردستی کام کیا ، اور مجھے بہت تکلیف دی ،میں نے بولا مجھے چھوڑدے تو کہتے ہیں ایک بار اچھی طرح پورا اندر جانے دو ،پھر طلاق دے دوں گا ، ان کو بچوں کا بھی کوئی لحاظ نہیں ہے ، ان کے سامنے بھی نازیبا حرکات سے بازنہیں آتے ، ان کو دین کی بھی خاصی سمجھ بوجھ حاصل ہے ، ایک سالہ عربی کورس بھی کیا ہوا ہے ، جامعۃالرشید سے ، اور آج کل انہوں نے رٹ لگائی ہوئی ہے ، کہ رمضان سے پہلے ایک بار کروں گا ، چاہےسوتے ہوئے یا جاگتے ہوئے , کوئی بات کروں کہ آپ کو کوئی پریشانی ہے ، تو مجھے بتائیں ، اپنی کچھ باتیں شئرکرلیں تو بولتے ہیں مجھے صرف ایک ہی ٹینشن ہے ،مجھے یہ حرام کام کرنے دو ، میرا دل بار بار کرتا ہے ، اس کے علاوہ کوئی گفتگو نہیں کرتے ، جبکہ انکے دوست احباب بھی سلجھے ہوئے اچھی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عورت کے ساتھ پچھلے راستے سے جماع کرنا غیر اسلامی اور غیر فطری عمل ہے ، آپﷺ نے اس سے منع فر مایاہے، اور ایسے شخص کو جو اپنی بیوی کے ساتھ پچھلے راستے سے جماع کرتا ہے ملعون قرار دیا ہے ،لہذا سائلہ کے شوہر کے لئے اس فعلِ حرام کا ارتکاب کرنا اور بیوی کے انکار کرنے کی صورت میں اسے مارپیٹ اور گالی گلوچ پر اترنا اور نازیبا الفاظ استعمال کرنا اور اس کام کے لئے مجبور کرنا شرعاًو اخلاقاً ناجائز اور حرام ہے ،جس سے اجتناب لازم ہے ، تاہم اگر شوہر اس فعلِ حرام سے باز نہ آرہا ہو اور بیوی کے کئی مرتبہ سمجھانے کے باوجود بھی وہ اسے ترک کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو سائلہ اپنے شوہر سے طلاق یا خلع لے کر اس سے علیحدہ بھی ہوسکتی ہے ، اور اس صور ت میں سائلہ گناہ گار بھی نہ ہو گی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی احکام القرآن للجصاص :( نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم) يدل على أن إباحة الوطء مقصورة على الجماع في الفرج لأنه موضع الحرث واختلف في إتيان النساء في أدبارهن فكان أصحابنا يحرمون ذلك وينهون عنه أشد النهي وهو قول الثوري والشافعي(الی قولہ) رواه خزيمة بن ثابت وأبو هريرة وعلي بن طلق كلهم عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال لا تأتوا النساءفي أدبارهن(سورۃالبقرہ ج1 ص352 ط:سہل اکیڈیمی لاہور)۔
وفی الھندیۃ: اللواطة مع مملوكه أو مملوكته أو امرأته حرام(کتاب الکراھیۃ اباب التاسع ج5 ص330 ط:ماجدیہ)۔
وفی التا تارخانیۃ:وفی الھدایۃ واذاتشاق الزوجان وخافا أن لایقیما حدوداللہ تعالیٰ فلا باس بان تفتدی نفسھا منہ بمال یخلعھا،وفی الزاد واذا فعل ذللک وقع بالخلع تطلیقۃبائنۃولزمھاالمال الخ(الفصل السادس ج5ص5 ط: رشیدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ظفراللہ نعمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71126کی تصدیق کریں
1     1152
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات