کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک سال پہلے میرا رشتہ ہوا تھا ، اب میری ساس پر کسی نے تعویذات کئے ہوئے ہیں ، وہ کہتی ہے میں اسے نظر نہیں آتا ، اس لئے اب وہ اس رشتہ کو ختم کرنا چا ہتے ہیں ، لہذا آپ رہنمائی فر مائیں کہ ان کا روحانی معاملہ کو بنیاد بنا کر رشتہ ختم کرنا گناہ ہے یا نہیں ؟
واضح ہو کہ منگنی وعدہ نکاح ہے ، جب تک کوئی معقول عذر پیش نہ آئے اس وقت تک اس کو پورا کرنا دیانۃًضروری ہے ،البتہ اگر کوئی معقول عذر پیش آجائے تو باہمی مشاورت سے منگنی توڑی بھی جاسکتی ہے ، لہذا صورت مسؤلہ میں سائل کی ہو نے والی ساس کا روحانی معاملہ کو بنیاد بناکر اس طرح رشتہ ختم کرنا صحیح نہیں ہے ، بلکہ رشتہ ختم کرنے کی بجائے اپنے علاج پر توجہ دینی چاہیئے ، تاہم اگر ہرممکن کوشش اور سمجھانے کے باوجود وہ اس رشتہ (منگنی)کو ختم کرنے پر بضد ہو تو ایسی صورت میں سائل گناہ گار نہ ہوگا ۔
کمافی صحیح البخاری :عن ابی ھریرۃرضی اللہ عنہ عن النبی ﷺقال :اٰیۃ المنافق ثلاث اذا حدث کذب واذاوعدأخلف واذااؤتمن خان (کتاب الایمان باب علامۃ المنافق ج 1 ص10 ط:قدیمی)۔
وفی الدرالمختار : وكذا أنا متزوجك أو جئتك خاطبا لعدم جريان المساومة في النكاح أو هل أعطيتنيها إن المجلس للنكاح، وإن للوعد فوعد اھ(کتاب النکاح ج 3 ص12 ط:سعید )
وفی ردالمحتار :تحت(قوله: إذا لم ينو الاستقبال) لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح. اهـ.(کتاب النکاح ج3 ص 11 ط:سعید )۔