گناہ و ناجائز

عورت کا ووٹ کے لئے گھر سے بارہ نکلنا

فتوی نمبر :
70759
| تاریخ :
2024-02-07
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

عورت کا ووٹ کے لئے گھر سے بارہ نکلنا

عورت کا ووٹ دینے کیلئے گھر سے باہر نکلنا جائز ہے جب کہ یہ نماز سے زیادہ اہم تو ہے نہیں، اس کیلئے جانا منع ہے اور راستوں اور پولنگ اسٹیشن پر مرد بھی ہوتے ہیں اور ایسی جگہ پر ہر قسم کے اوباش لوگ بھی ہوتے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ احناف کے نزدیک عورت کے ووٹ ڈالنے یا کسی اور ضروری مقصد سے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت مطلق نہیں، بلکہ فقہاء نے اس کی بھی شرائط ذکر کی ہیں، جیسے مکمل شرعی پردہ کا اہتمام، اختلاط سے پرہیز، ضرورت پوری ہونے پر بلا تاخیر گھر لوٹ جانا وغیرہ ، جبکہ پانچوں وقت کی نماز باجماعت مسجد میں جاکر پڑھنے میں اس درجہ ضرورت نہیں، بلکہ احادیثِ صحیحہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کا گھروں میں نماز پڑھنا کسی بھی مسجد میں جا کر نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور حضرت عائشہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہما اور دیگرصحابہ کرام سے عورتوں کے مسجد نبوی میں جا کر نماز پڑھنے کی ممانعت ثابت ہے، اس لئے عدم ِضرورت اور صحابہ کرام کی طرف سے عمومی ممانعت کی بناء پر فقہاءِ کرام نے عورتوں کے مسجد میں جاکر باجماعت نماز پڑھنے کو ممنوع لکھاہے، لہذا سائل کا ووٹ کے مسئلے کو مسجد میں نماز کے مسئلے پر قیاس کرنا شرعاً درست نہیں، جس سے اسے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی السنن لابی داود : عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "‌صلاة ‌المرأة ‌في ‌بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها، وصلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها (ج1،ص 426، رقم:569، ط: دار الرسالۃ)۔
و فی الصحیح للمسلم: عن عمرة بنت عبد الرحمن أنها سمعت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم تقول: « لو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى ‌ما ‌أحدث ‌النساء ‌لمنعهن ‌المسجد ‌كما ‌منعت نساء بني إسرائيل.» قال: فقلت لعمرة: أنساء بني إسرائيل منعن المسجد؟ قالت: نعم (ج2،ص 34، رقم:445، ط: دار الطباعۃ)۔
و فی صحيح الترغيب و الترهيب: وعن أبي عمرو الشيباني ‌أنه ‌رأى ‌عبد ‌الله ‌يخرج ‌النساء ‌من ‌المسجد يوم الجمعة ويقول اخرجن إلى بيوتكن خير لكن رواه الطبراني في الكبير بإسناد لا بأس به (ج1،ص 261، ط: مکتبۃ المعارف)۔
و فی الھندیۃ: وكره لهن حضور الجماعة إلا للعجوز في الفجر والمغرب والعشاء والفتوى اليوم على الكراهة في كل الصلوات لظهور الفساد. كذا في الكافي وهو المختار. كذا في التبيين (ج1، ص 89، ط؛ ماجدیہ)۔
وفی رد المحتار ؛ ‌وحيث ‌أبحنا ‌لها ‌الخروج ‌فبشرط ‌عدم ‌الزينة في الكل، وتغيير الهيئة إلى ما لا يكون داعية إلى نظر الرجال واستمالتهم اهـ (ج3 ص146، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالرب لحاظ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70759کی تصدیق کریں
0     710
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات