گناہ و ناجائز

یوٹیوب کے چینل کی آمدن کا حکم

فتوی نمبر :
70718
| تاریخ :
2024-02-05
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

یوٹیوب کے چینل کی آمدن کا حکم

السلام علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک یوٹیوبر ہوں، اور میں گیمنگ کانٹینٹ (ویڈیوز) پوسٹ کرتا ہوں، تو اس کے ذریعہ یوٹیوب سے حاصل شدہ آمدنی میرے لئے حلال ہے؟ میں آپ کے جواب پر نہایت مشکور ہوں گا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ایسی ویڈیو گیم جس میں جسمانی ورزش نہ ہو، اور اُس میں جوا لگائے بغیر کبھی کبھار محض تفریحِ خاطر کی غرض سے کھیلا جائے، اور اُس میں مشغولیت کی وجہ سے کسی واجب کا ترک یا حرام (میوزک یا برہنہ تصاویر وغیرہ)کا ارتکاب بھی لازم نہ آتاہو وغیرہ، تو ایسی صورت میں ایسی گیم کو کھیلنے یا اُسے یوٹیوب چینل پر پوسٹ کرنے کی گنجائش تو ہے، تاہم اُس میں اِس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اُس پر چلائے جانے والے اشتہارات غیر شرعی امور (خواتین کی تصاویر، میوزک وغیرہ) پر مشتمل نہ ہوں اور نہ ہی ان سے کسی غیرشرعی چیز کی تشہیر ہوتی ہو ، لہٰذا سائل اگر مذکورہ بالا شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے گیمنگ کانٹینٹ اپلوڈ کرے تو اس کے ذریعہ حاصل شدہ آمدنی سائل کےلئے حلال ہوگی ورنہ نہیں، لیکن ان میں حد درجہ احتیاط کے باوجود اکثرو بیشتر غیر شرعی مواد شامل ہوجاتا ہے، اس لئے ان چیزوں کو ذریعۂ معاش بنانے کے بجائے کوئی بے غبار آمدنی کا ذریعہ تلاش کرنا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: قلت: وقدمنا ثمة معزيا للنهر أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها. فليحفظ توفيقا اھ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله معزيا للنهر) قال فيه من باب البغاة وعلم من هذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به اھ (ج6،صـــ391،ط:سعید)۔
وفی شرح المجلۃ: الأمور بمقاصدها يعني: أن الحكم الذي يترتب على أمر يكون على مقتضى ما هو المقصود من ذلك الأمر اھ (ج1،صـــ13،ط:اسلامیۃ)۔
وفی التنویر مع الدر: ولا بأس بالشطرنج وهي رواية ... عن الحبر قاضي الشرق والغرب تؤثر وهذا إذ لم يقامر ولم يداوم ولم يخل بواجب وإلا فحرام بالإجماع،(و) كره (كل لهو) لقوله عليه الصلاة والسلام «كل لهو المسلم حرام إلا ثلاثة ملاعبته أهله وتأديبه لفرسه ومناضلته بقوسه» إلخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله والشطرنج) معرب شدرنج، وإنما كره لأن من اشتغل به ذهب عناؤه الدنيوي، وجاءه العناء الأخروي فهو حرام وكبيرة عندنا، وفي إباحته إعانة الشيطان على الإسلام والمسلمين كما في الكافي قهستاني اھ (ج6،صـــ394،ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سفیان رشید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70718کی تصدیق کریں
1     937
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات