گناہ و ناجائز

اسلام پر بنی دی میسج فلم دیکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
70692
| تاریخ :
2024-02-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

اسلام پر بنی دی میسج فلم دیکھنے کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ، مفتی صاحب !
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے ،میرا سوال یہ ہے کہ انگریزی میں ایک فلم "دی میسج" یوٹیوب پر موجود ہے اور اب یہ فلم اردو زبان میں بھی موجود ہے ، اس بارے میں دنیا کے مختلف مدارس اور مختلف لوگوں کے فتوے موجود ہیں ، اس فلم میں اسلام کی شروعات سے لے کر فتح مکہ تک کو تصویری انداز میں دکھایا گیا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے علاوہ تقریباً تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا کردار لوگوں کو دیا گیا ہے، یہ مختصر آپ کو بتا دیا ہے کہ اس میں کیا کیا ہے مزید آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں ، ایک طرف تو اس فلم نے دنیا کے اندر اسلام کا ایک مثبت چہرہ غیر مسلم لوگوں کے سامنے رکھا ہے جبکہ شریعت کی رو سے اس کو دیکھنا کیسا ہے ؟ جب میں نے اسلامی تاریخ اور واقعات کو پڑھا اور دیکھا تو دیکھنے سے بات بہت گہرا اثر رکھتی ہے اس کے علاوہ اگر کسی نے یہ فلم دیکھی ہو، کیا وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خاکے دیکھنے کے مترادف ہو گی اور کیا اس کو دیکھنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا؟ اور اگر میاں یا بیوی میں سے کسی نے یا دونوں نے مل کر دیکھی ہو تو کیا ان کا نکاح ٹوٹ جائے گا ؟اگر واقعی نکاح ٹوٹ جاتا ہے تو دوبارہ سے نکاح پڑھوانا پڑے گا؟ نیز اس بات کی کھلے الفاظ میں وضاحت فرما دیں کہ کیا اس کو دیکھنا جائز ہے یا نا جائز ہے؟ مہربانی ہوگی، اللّٰہ پاک آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، آمین ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور "دی مسیج"فلم مضمون اور واقعات کے اعتبار سے اگر چہ انڈین فلموں کی سچی جھوٹی عشقیہ کہانیوں کے بجائے حقیقی اور تاریخی واقعات پر مشتمل ہو لیکن اس طرح فلموں کی عکس بندی کرتے وقت قرآن وسنت کے مضامین اور ان کوعملی زندگی میں لانے والے مقدس اور بزرگ حضرات کی نقالی کرکے پیشہ ور اداکار بطور کردار نبھا رہے ہوتے ہیں ،اسی طرح عموما کوئی بھی فلم خاتون کے کردار کے بغیر مکمل نہیں ہوتی اور خواتین کے لئے بے حجاب مردوں کے سامنے آنا یا ان کی تصاویر کا بلا ضرورت نا محرموں کو دکھلانا قرآن و حدیث کی رو سے بالکل ناجائز ہے ، اور ناجائز کام کو مضامین قرآن بیان کرنے کے لئے ذریعہ بنانا بھی نہ صرف حرام بلکہ معاذ اللہ آیات قرآنیہ اور ان بزرگ شخصیات کی توہین کے مترادف ہے ، نیز کسی بھی فلم کا اصل منشا تعلیم و تبلیغ نہیں بلکہ تفریحِ طبع اور کھیل تماشوں سے لذت حاصل کرنا ہوتا ہے ، لہذا مذکور فلم کو دیکھنے والے تفریح طبع کی غرض سے دیکھیں گے نہ کہ علم ، عبرت یا نصیحت حاصل کرنے کے لئے ، جبکہ واضح دلیل یہ ہے کہ اگر یہی مضامین اپنی اصلی صورت میں وعظ و تذکیر کے لئے بیان کیے جاتے ہیں تو یہ لوگ اس میں شریک ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتے ، اس لئے فلم میں صحابی کے واقعات دیکھنے دکھانے کا اصل مقصد کھیل تماشہ سے لذت حاصل کرنا اور تفریحِ طبع کو بنا لینا کسی طرح بھی جائز نہیں ، مذکور بالا وجوہ کی بناء پر اور دیگر متعدد مفاسد کے پیش نظر ایسی فلم دیکھنا نا جائز ہے،البتہ اس طرح کی فلموں کو دیکھنے سے بندہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا اور نہ ہی میاں بیوی کے ایک ساتھ مل کر دیکھنے سے طلاق واقع ہوتی ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار:قال ابن مسعود رض: صوت اللهو والغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: وفي البزازية استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله عليه الصلاة والسلام "استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر "أي بالنعمة الخ(ج 6 ص 348 ط: سعید)۔
وفی تکملۃ فتح الملھم: اما التلفیزون والفیدیو فلا شک فی حرمۃ استعمالھا بالنظر الی ما یشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ من الخلاعۃ والمجون والکشف عن النساء المتبرجات او العاریات وما الی ذلک من اسباب الفسوق الخ(ج 4 ص 164)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ حسن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70692کی تصدیق کریں
0     979
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات