گناہ و ناجائز

شناختی کارڈ بنوانے کیلئے لے پالک کیلئے سگی بہن ہونے کی گواہی دینا

فتوی نمبر :
70676
| تاریخ :
2024-02-01
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

شناختی کارڈ بنوانے کیلئے لے پالک کیلئے سگی بہن ہونے کی گواہی دینا

یہ مسئلہ پہلے بھی پوچھا گیا تھا ، لیکن ادھورا تھا ، اب مکمل مسئلہ درجِ ذیل ہے لہذا جواب عنایت فرما دیجیے ، میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی میری شادی 12 سال کی عمر میں ہو گئی تھی میری شادی کے بعد میری ماں نے اپنے ماموں کی بیٹی فاطمہ کو گود لیا جو کہ سال کے اندر اندر تھی ، میری ماں نے اپنی جائیداد میرے اور اس کے نام برابر کی ، اپنی زندگی میں ہی تقسیم کر دی تھی ، فاطمہ کے والدین کا اور میرے والدین کا انتقال ہو چکا ہے ، فاطمہ کے دو شناختی کارڈ بنے ہوئے تھے، ایک تو اصل والد کی نسبت کا اور دوسرا میرے باپ کی نسبت کا جو حال ہی میں ایکسپائر ہوا ہے ، فاطمہ نے اپنا اصل والد کی نسبت والا شناختی کارڈ نادرا سے مکمل ختم کرا لیا تھا ، فاطمہ کا اصل والد کے نام کا شناختی کارڈ اب بالکل بھی نہیں بن سکتا ، نادرا والوں نے منع کر دیا ، اب اگر لے پالکی والا شناختی کارڈ رینیو نہیں ہوا تو فاطمہ کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ، اولادوں کے شناختی کارڈز، اولادوں کے نکاح فارمز وغیرہ اور پوتے پوتیوں کے برتھ سرٹیفکیٹ اور نادرا کے جملہ کاغذات نہیں بن سکتے ، میری ماں نے جو آدھا گھر فاطمہ کو دیا تھا اس پر فاطمہ نے 16 پورشن بنا کر فروخت کر دیے تھے لیکن رجسٹری نہیں کرائی تھی ، فاطمہ نے گھر بھی جن کو فروخت کیے ہیں ان کے نام رجسٹر کروانے ہیں اس کے لئے شناختی کارڈ رینیو کرانا ضروری ہے ، شناختی کارڈ رینیو کرانے کے لئے نادرا والوں کو میری گواہی درکار ہے کہ فاطمہ میری سگی بہن ہے ، اس لئے مجھے نادرہ آفس جا کر گواہی دینی ہوگی اور سائن کرنے ہوں گے ، لہذا قران و حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں کہ ایسا کرنا میرے لئے جائز ہے ؟ اگر میں سائن کروں کہ فاطمہ میری سگی بہن ہیں تو میں گنہگار تو نہیں ہوں گی ؟ فاطمہ کا کہنا ہے کہ اگر شناختی کارڈ رینیو نہیں ہوا تو بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شریعتِ اسلامیہ میں اصل حکم یہی ہے کہ تمام سرکاری اور غیر سرکاری کاغذات میں ولدیت کے خانہ میں حقیقی والدین کا ہی نام درج کرایا جائے، اور کسی شخص کا حقیقی والدین کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا اور ولدیت کے خانہ میں پرورش کنندگان کا نام لکھنا شرعاً جائز نہیں ، لہذا صورتِ ِ مسئولہ میں فاطمہ کا اپنے آپ کوگود لینے والے والدین کی طرف منسوب کرنا اور اصل والدین کی نسبت والا شناختی کارڈ نادرا سے مکمل ختم کرانا شرعاً جائز نہیں ، اس پر توبہ استغفار کرنا اور آئندہ اس سے بچنا ضروری ہے ، فاطمہ پر لازم ہے کہ اپنےآپ کواصل والدین ہی کی طرف منسوب کرے ، اور حتی الامکان کوشش کرکے حقیقی والدین کے نام سے شناختی کارڈ کا اجرا کرائے ، البتہ اگر قانونی پیچیدگی کی وجہ سے حقیقی والدین کے نام کا شناختی کارڈ بن نہ سکتا ہو تو ایسی مجبوری میں پرورش کنند گان کا نام بطور سرپرست والدین کے خانہ میں درج کرانے کی مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ اجازت ہے :۔
(۱)۔ حقیقی والدین کی نسبت چھپانا مقصد نہ ہو ، بلکہ دیگر معاملات میں حقیقی والدین کے نام سے پکارا اور لکھا پڑھا جائے۔
(۲)۔ضرورت کے پیش نظر صرف کا غذات کی حد تک ہی لکھا جائے ۔
(۳)۔ میراث اور پردہ کے معاملہ میں احکام کی پابندی کی جائے صرف لے پالک ہونے کی وجہ سے شرعاً کوئی کسی کا وارث نہیں بنتا ، اور نہ ہی پردہ کے احکام تبدیل ہوتے ہیں۔
یہ گنجائش محض سخت مجبوری میں ہے ، ورنہ عام حالات میں اس کی اجازت نہیں ، کیونکہ شناختی اندراج نہ ہونے کی صورت میں اولادوں کا نکاح رجسٹرد نہیں ہو گا اور پھر آگے ہونے والی اولاد کا بے فارم وغیرہ نہیں بنےگا وغیرہ وغیرہ ۔
نیز جہاں تک سگی بہن ہونے کی گواہی دینے کی بات ہے تو سائلہ کے لئے فاطمہ سے متعلق سگی بہن ہو نے کی گواہی دینا شرعاً جائز نہیں ، البتہ قانونی مشکلات سے بچنے کے لئے توریہ کرتے ہوئے صرف ‘‘بہن ’’کہنا مجبوراً جائز ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى : ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِيمًا ( سورة الأحزاب ، الآية : ۵)-
و في أحكام القرآن للجصاص تحت هذه الآية المذكورة : فيه إباحة إطلاق اسم الأخوة وحظر إطلاق اسم الأبوة من غير جهة النسب ، ولذلك قال أصحابنا فيمن قال لعبده : هو أخي : لم يعتق إذا قال : لم أرد به الأخوة من النسب ، لأن ذلك يطلق في الدين، ولو قال : هو ابني عتق ، لأن إطلاقه ممنوع إلا من جهة النسب ( ج 3 ، ص ٣٦٣، ط : دار الكتب العلمية، بيروت )-
و في الجامع لأحكام القرأن للقرطبي : الثانية- لو نسبه إنسان إلى أبيه من التبني فإن كان على جهة الخطأ وهو أن يسبق لسانه إلى ذلك من غير قصد فلا إثم ولا مؤاخذة لقوله تعالى: (وليس عليكم جناح فيما أخطأتم به ولكن ما تعمدت قلوبكم). وكذلك ‌لو ‌دعوت ‌رجلا ‌إلى ‌غير ‌أبيه ‌وأنت ترى أنه أبوه فليس عليك بأس قاله قتادة. ولا يجري هذا المجرى ما غلب عليه اسم التبني كالحال في المقداد بن عمرو فإنه كان غلب عليه نسب التبني فلا يكاد يعرف إلا بالمقداد بن الأسود فإن الأسود بن عبد يغوث كان قد تبناه في الجاهلية وعرف به. فلما نزلت الآية قال المقداد: أنا ابن عمرو ومع ذلك فبقي الإطلاق عليه. ولم يسمع فيمن مضى من عصى مطلق ذلك عليه وإن كان متعمدا. وكذلك سالم مولى أبي حذيفة كان يدعى لأبي حذيفة. وغير هؤلاء ممن تبني وانتسب لغير أبيه وشهر بذلك وغلب عليه ( ج 14، ص 120 ، ط : دار الكتب المصرية، القاهرة)-
وفيه أيضا : الثالثة- قال القاضي أبو بكر بن العربي: في هذا الحديث نكتة عظمى تقصم الظهر، وهي أنه عليه السلام قال: (لم يكذب إبراهيم إلا في ثلاث كذبات ثنتين ما حل بهما ‌عن ‌دين ‌الله ‌وهما ‌قوله" ‌إني ‌سقيم" [الصافات: 89] وقوله" بل فعله كبيرهم" ولم يعد [قوله «2»] هذه أختي في ذات الله تعالى وإن كان دفع بها مكروها، ولكنه لما كان لإبراهيم عليه السلام فيها حظ من صيانة فراشه وحماية أهله، لم يجعلها في ذات الله، وذلك لأنه لا يجعل في جنب الله وذاته إلا العمل الخالص من شوائب الدنيا، والمعاريض التي ترجع إلى النفس إذا خلصت للدين كانت لله سبحانه، كما قال:" ألا لله الدين الخالص" [الزمر: 3 («3»]. وهذا لو صدر منا لكان لله، لكن منزلة إبراهيم اقتضت هذا. والله أعلم ( ج 11، ص 301 ، ط : دار الكتب المصرية، القاهرة)-
و في صحيح البخاري : عن سعد رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول : من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام ( باب : من ادعى إلى غير أبيه ، ج ٦، ص ۲۳۸۵ ، رقم : ٦۳۸۵ ، ط: دار ابن كثير، دمشق )-
و في صحيح مسلم : عن يزيد بن شريك بن طارق قال خطبنا علي بن أبي طالب فقال : من زعم أن عندنا شيئا نقرأه إلا كتاب الله وهذه الصحيفة (إلى قوله ) ومن ادعى إلى غير أبيه، أو انتمى إلى غير مواليه فعليه لعنة الله، والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا ( باب تحريم تولي العتيق غير مواليه ، ج ٤ ، ص ۲۱۷ ، رقم : ۱۳۷۰ ، ط : دار الطباعة العامرة، تركيا)-
و في المبسوط للسرخسي : ولو قال لامرأته: ‌هذه ‌أختي ‌فهو ‌صادق ‌في ‌ذلك، ولا يقع عليها شيء؛ لأن هذا الكلام محتمل للأخوة في الدين، قال الله تعالى {إنما المؤمنون إخوة} [الحجرات: 10]، وفي القبيلة قال الله تعالى: {وإلى عاد أخاهم هودا} [الأعراف: 65] وبالمحتمل لا تثبت الحرمة ( كتاب الطلاق ، ج 6، ص 140، ط : دار المعرفة، بيرصت)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالمجید نور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70676کی تصدیق کریں
0     616
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات