کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام آج کل خواتین کا فیشن چلا ہے ، جس میں خواتین اپنی شلوار اس قدر چھوٹی رکھتی ہیں کہ جس میں ان کے ٹخنے برہنہ ہوتے ہیں، اس بارے میں رہنمائی دیجئے ؟
واضح ہو کہ جس طرح مردوں کے لئے ٹخنوں کو ڈھانپنا شرعاً درست نہیں ، اسی طرح عورتوں کے لئے ٹخنوں کا کھولے رکھنا بھی نا جائز وحرام ہے، لہذا فی زماننا فیشن پرستی کے سیلاب میں بہہ کر خواتین کا اپنی شلوار اس قدر چھوٹی رکھنا جس سے ان کے ٹخنیں بر ہنہ ہوں ناجائز ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی فتاوی الھندیۃ:تقصير الثياب سنة وإسبال الإزار والقميص بدعة ينبغي أن يكون الإزار فوق الكعبين إلى نصف الساق وهذا في حق الرجال، وأما النساء فيرخين إزارهن أسفل من إزار الرجال ليستر ظهر قدمهن. إسبال الرجل إزاره أسفل من الكعبين إن لم يكن للخيلاء ففيه كراهة تنزيه، كذا في الغرائب.الخ ( 5/333 کتاب الکراھیۃ الباب التاسع فی اللبس مایکرہ من ذالک ومالایکرہط ماجدیہ)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله على المعتمد) أي من أقوال ثلاثة مصححة،(الی قولہ) إن الصحيح أن انكشاف ربع القدم يمنع الصلاة، قال لأن ظهر القدم محل الزينة المنهي عن إبدائها، قال تعالى - {ولا يضربن بأرجلهن ليعلم ما يخفين من زينتهن} [النور: 31]- اهـ كلام المصنف(1/406 مطلب فی ستر العورۃ ط سعید)۔
وفی أحکام تجمیل النساء: فالمرأۃ یجب علیھا ستر قدمھا سواء کانت فی الصلاۃ أم فی غیرھا (الی قولہ) فإذا کانت قدم المرأۃ عورۃ خارج الصلاۃ فیجب علیھا أن تسترھا بالساتر الخ (1/231 المطلب الثالث فی الباس القدمین ط داراحیاء)۔